تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 45
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد خطبہ جمعہ فرموده 10 ستمبر 1982 ء پھر اسی سلسلے میں دعا کی تحریک کرتا ہوں اپنے بھائی عزیزم میر محمود احمد صاحب اور ان کی بیگم کے لئے بھی، اپنی ہمشیرہ عزیزہ امتہ المتین کے لئے۔انہوں نے دن رات بے حد محنت کی۔جب یہ آئے تو اس گھر کا صرف ایک ڈھانچہ سا کھڑا تھا اور بے حد محنت کی ضرورت تھی۔بہت سے کاموں کی ضرورت تھی۔میری ہمشیرہ نے مجھے بتایا کہ جس دن، رات تین بجے مجھے سونے کا موقع ملتا تھا تو میں شکر کرتی تھی اللہ تعالیٰ کا اور جھتی تھی کہ جلدی سونا نصیب ہو گیا ہے۔خاموشی کے ساتھ بھی محنتیں کی ہیں، ان لوگوں نے۔پھر انگلستان کی جماعت ہے۔شیخ مبارک احمد صاحب اور ان کے ساتھی وہاں سے آتے رہے۔بے حد کوشش ہوئی ہے اس کے پیچھے۔اور دنیا کو تو صرف ایک عمارت نظر آتی ہے کھڑی ہوئی۔اور سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی مسجد ہے، جیسی سینکڑوں، ہزاروں دنیا میں بن رہی ہیں۔مگر یہ ایسی مسجد نہیں۔آج کی دنیا میں ایسے آنسو بھلا کس مسجد کو نصیب ہوئے ہیں، جیسے اس کو نصیب ہوئے ہیں؟ ایسی قربانیاں کس کے پس منظر میں جلوہ گر ہیں، جیسی اس مسجد کے پس منظر میں جلوہ گر ہیں؟ ہر گز دنیا کی مساجد کو اس مسجد سے کوئی نسبت نہیں۔ان دعاؤں کے ساتھ میرا ذہن اہل مغرب کی طرف بھی منتقل ہوتا ہے، جو دعاؤں کے بہت محتاج ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ایک مسجد سے کچھ نہیں بنے گا۔بستی بستی مسجد بنانے کی ضرورت ہے، قریہ قریہ اذانیں دینے کی ضرورت ہے، خدا کا نام بلند کرنے کی ضرورت ہے۔اتنا شرک پھیلا ہوا ہے، اتنی تباہی بچائی ہوئی ہے کفر نے کہ انسان محو حیرت رہ جاتا ہے کہ آج کل کا باشعور انسان اتنا بھی گراوٹ میں ملوث ہو سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو اپنی پیشگوئی میں اس قوم کو ایسے دجال کے طور پر بیان فرمایا، جس کی دائیں آنکھ اندھی اور بائیں آنکھ روشن ہے۔اس سے بہتر فصاحت اور بلاغت کا ایک جملہ تصور میں نہیں آسکتا ، جس نے ان قوموں کی ساری تصویر بھینچ کے رکھ دی ہے۔ایک طرف دنیا کی آنکھ ہے، اتنی تیز نظر ہے کہ پاتال کی خبر لاتی ہے۔اور دوسری طرف دین کی آنکھ ہے، جو اتنی اندھی ہے کہ جگہ جگہ شرک کا گہوارہ بنا ہوا ہے۔خدا کی عبادت ہی ایک عبادت ہے، جس سے یہ غافل ہیں۔باقی ہر دوسری چیز کی عبادت ہو رہی ہے۔لہو ولعب کی عبادت ہو رہی ہے، بتوں کی عبادت ہو رہی ہے، فسق و فجور کی عبادت ہو رہی ہے، جھوٹ کی عبادت ہو رہی ہے، دجل کی عبادت ہو رہی ہے۔صرف ایک خدا ہے، جس کی عبادت نہیں ہو رہی۔ان سب کی تقدیر بدلنی ہے۔ایک مسجد تو کافی نہیں۔اور پھر ایک ایسی مسجد سے کس طرح تقدیر بدلی جائے گی، جس کے لئے نمازی پیدا نہ ہوں؟ بے انتہا کام کی ضرورت ہے، بے انتہا قربانیوں کی ضرورت ہے، بے حد واقفین کی ضرورت ہے، بے حد مالی قوت کی ضرورت ہے۔اور ہم جب اپنے اوپر نظر کرتے ہیں تو بہت ہی کمزور اور حقیر اور بے بس اپنے آپ کو پاتے ہیں۔45