تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 400
ارشاد فرموده 09 فروری 1983ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم جب میں کہتا ہوں کہ علماء آگے آئیں تو میری مراد سلسلہ کے وہ علماء نہیں، جو اس وقت خدمت پر ہمہ تن مامور ہیں۔ان کا وقت تو اب ان کا رہ ہی نہیں۔ان کو تو جماعت جو کام دیتی ہے، اسے وہ کر رہے ہیں۔ان کے سپرد پہلے ہی اتنے کام ہیں کہ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ ہی ہر طرف پھیل جائیں اور ہر کام وہی سرانجام دیں ، تکلیف مالا يطاق ہے۔علماء سے میری مراد ساری دنیا میں پھیلے ہوئے اہل علم احمدی ہیں۔ان میں بہت سے ایسے ہیں، جن کا وقت ضائع ہو رہا ہے۔ان کو اس میدان میں آگے بڑھنا چاہیے اور مرکز کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔ادارہ تحریک جدید میں وکالت تصنیف کے تابع با قاعدہ ایک سیل (CELL) قائم کیا جا چکا ہے۔وکالت کو ان اہل علم احمدیوں کے نام چاہئیں۔شعبہ تصنیف جو مواد اکٹھا کر رہا ہے، اسے وہ ان علماء میں تقسیم کرے گا۔یہ تقسیم بطور مصنف، بطور کتاب اور بطور زبان کے ہوگی۔مثلاً فرانسیسی زبان یا سپینش زبان میں اسلام پر اعتراضات۔اسی طرح ساری دنیا میں ہر قسم کے اعتراضات کے جواب دینے کے لئے مختلف موضوعات مختلف زبانیں اور مختلف مصنفین تقسیم کئے جائیں گے۔یہ کام اتنا بڑا ہے کہ اگر تحریک جدید کا ڈیپارٹمنٹ سارے کا سارا یہ کام کر رہا ہو، تب جا کر بمشکل اس سے نبرد آزما ہوسکتا ہے۔اس کام کی وسعت کا اندازہ آپ اس سے کر سکتے ہیں کہ فرانسیسی مستشرقین نے اسلام پر جو گندا چھالا ہے اور فرانسیسی عوام پر جو برا اثر ڈال رہے ہیں، وہ ابھی تک ہمارے علم میں نہیں ہے۔پھر جرمنوں نے اپنی زبان میں لکھا ہوا ہے۔روسیوں نے لکھا ہے۔اسی طرح GREEKS یونانیوں نے اسلام کے خلاف لکھا ہے۔اور ہر ایک قوم نے اپنے اپنے علاقے میں خاص قسم کا ہر پھیلایا ہوا ہے۔ان سب اعتراضات کو اکٹھا کرنا ، ان کا جواب لکھنا اور پھر ان زبانوں میں جواب لکھنا یا ان میں ترجمہ کروانا، یہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔اس کے علاوہ اسلام پر جو بالواسطہ حملے کئے گئے ہیں، وہ بے انتہا ہیں۔آپ یورپ کے کسی بھی مصنف کو لے لیں، اس کی تصنیف اسلام پر حملے سے خالی نہیں ہوگی۔ہسٹورین (HISTORIAN) ہے تو اس نے بھی اسلام پر حملہ کیا ہے۔سائیکالوجسٹ (PSYCHOLOGIST) ہے تو اس نے بھی حملہ کیا ہے۔اگر وہ PHYSICIST ہے تو اس نے بھی جہاں داؤنگا، اسلام پر حملہ کیا ہے۔ڈاکٹر ہیں تو وہ بھی حملے سے باز نہیں آئے۔فرائڈ جیسے لوگوں نے اپنے ذہنی گند کو اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس ذات پر اچھالنے کی کوشش کی ہے کہ اس کو پڑھا نہیں جاتا۔اور پھر خود اپنے رسولوں کو بھی معاف نہیں کیا۔اس کام کے لئے پہلے ہر قسم کے لٹریچر کا مطالعہ کرنا ہوگا تا کہ معلوم ہو سکے کہ کہاں کہاں یہ گند پھیلا ہوا ہے۔پھر اسے متعلقہ علماء کے سپرد کرنا ہو گا، جو اس کا 400