تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 397
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد ارشاد فرمودہ 02 فروری 1983ء اس پر ایک دوست نے عرض کیا کہ مصنف نے کہا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کی آخری جنگ مکتب میں ہوگی۔یہ بات اس نے ٹھیک کہی ہے۔حضور نے پوچھا: کس طرح ؟ انہوں نے عرض کیا: حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے، ہم قلم سے جہاد کریں گے۔اور ہمارے خیال میں اس کا اشارہ اسی طرف تھا۔فرمایا: ”ہاں، اگر یہ اشارہ ہے تو پھر آپ کی بات ٹھیک ہے۔لیکن یہ پتہ نہیں کہ اس کا ادھر اشارہ ہے بھی یا نہیں؟“ فرمایا: ” اس کتاب سے ایک بات بڑی واضح ہو جاتی ہے کہ جماعت احمدیہ کے سوا اس وقت کوئی جماعت ایسی نہیں ہے، جس کو ایک دفاعی قوت کے طور پر باہر کی دنیا محسوس کر رہی ہو۔مصنف نے ہر طرف کیڑے نکالے ہیں لیکن جماعت احمدیہ میں اس کو ایک صرف کیر انظر آیا ہے کہ چونکہ یہ عوام الناس میں مقبول نہیں ہو رہی، اسی لئے اس سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں۔ادھر جہاں تک خطرات کا تعلق ہے، صرف جماعت احمدیہ کا ذکر کیا ہے۔اور کہا ہے، یہ بے حدقوت ہے، جو عیسائیت سے ٹکرا رہی ہے اور باہر کی دنیا اس کو محسوس کر رہی ہے۔اسلام کی اس دفاعی قوت کا محسوس ہونا تو بڑی واضح بات ہے۔اس میں کوئی شک نہیں، مصنف کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ ابھی ساری جماعت نہیں ٹکرائی۔جماعت احمدیہ کا عشر عشیر ٹکرایا ہے۔جس وقت اسلام کے دفاع میں سارے احمدی جاگ کر شیر کی طرح پڑیں گے، تب سمجھ میں آئے گی کہ احمدیت کس چیز کا نام ہے؟ ہماری بہت بڑی تعداد ہے، جو دنیا میں سوئے ہوئے شیروں کی طرح پڑی ہوئی ہے اور اس نے براہ راست عیسائیت کے ساتھ فکر نہیں لی۔یہ تو صرف چند مبلغین یا ان کے ساتھی ہیں، جنہوں نے اس وقت دنیا میں قیامت ڈھائی ہوئی ہے۔ایک تو مصنف کے اندازہ کی یہ غلطی ہے، جو انشاء اللہ زیادہ دیر نہیں رہے گی۔دنیا اب بڑی جلدی محسوس کرے گی۔دوسری غلطی یہ ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ یہ نوشتہ تقدیر ہے کہ عوام الناس احمدیت کو نظر انداز کرتے چلے جائیں۔لیکن جن مایوسیوں کا وہ ذکر کر رہا ہے، وہی مایوسیاں عوام الناس کو مجبور کریں گی کہ احمد بیت کی طرف جائیں اور احمدیت میں پناہ ڈھونڈیں۔اور خدا کے فضل سے اس کی تیاری ہوتی ہوئی ہمیں نظر آرہی ہے، صرف ہر احمدی کا فعال ہونا باقی ہے۔جب آپ اسلام کی خاطر مر مٹنے کے لئے تیار ہو جائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ چند دنوں کے اندر اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا اور مصنف کے دونوں اندازے غلط ثابت ہو جائیں گے۔پھر انشاء اللہ اہل مغرب کے ساتھ اصل ٹکر ہوگی اور اسلام کی عیسائیت کے ساتھ جنگ کا مزہ آئے گا“۔مطبوعه روزنامه الفضل 18 جون 1983ء) 397