تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 325
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد اقتباس از خطاب فرموده 27 دسمبر 1982ء حقیقت یہ ہے کہ یہ قربانی اتنی عظیم الشان، اتنی گہری اور اتنی وسیع ہے کہ باہر والے یعنی جو خود مبلغ نہیں ، ان لوگوں سے ایسی ہی نسبت رکھتے ہیں، جیسے کوئی کنارے پر بیٹھا طوفان کا نظارہ کر رہا ہو۔ان مبلغین کے بیوی بچوں کے جو حالات ہیں، ان میں کئی قسم کی پریشانیاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ایک طرف واقف زندگی ہے، جس سے بہت ہی اعلیٰ معیار کے تقاضے وابستہ ہوتے ہیں، دوسری طرف عدم تربیت کے نتیجہ میں ان کی اولاد میں بعض کمزوریاں پیدا ہو جاتی ہیں، وہ بے چارے بالکل بے بس ہوتے ہیں۔دور بیٹھے ہوتے ہیں اور کچھ کر نہیں سکتے۔اور پھر جماعت کی طرف سے انگلیاں اٹھتی ہیں کہ فلاں مبلغ کے بیٹے نے یہ حرکت کی یا فلاں مبلغ کی بیٹی سے یہ حرکت سرزد ہوئی۔لیکن وہ مبلغ دور بیٹھا ہوا کچھ نہیں کر سکتا۔اس غریب کا دل رور ہا ہوتا ہے، وہ خدا کے حضور ہلکان ہو رہا ہوتا ہے کہ میں کیا کروں؟ میری کچھ پیش نہیں جاتی۔پھر ان کی بیماریاں ہیں، ان کی ضرورتیں ہیں۔یہ ٹھیک ہے کہ جماعت ان کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن خدا کے کچھ ایسے بھی محروم بندے ہیں، جن کی عزت نفس کا معیار بہت بلند ہے۔وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ ہماری ضروریات کا کسی کو پتہ نہ چلے۔اس لئے ان کے بارے میں ہمیشہ بڑی فکر رہتی ہے کہ وہ کس طرح گزارہ کر رہے ہیں؟ اور ان کی کیا تکالیف ہیں، جن کو دور کرنے کوشش کرنی چاہیے؟ ان کے حالات کی تفصیل بیان کرنے کا تو یہ موقع نہیں ہے مگر میں محض دعا کی خاطر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ نہ صرف مبلغین دعاؤں کے حقدار ہیں بلکہ ان کے بیوی بچے بھی سارے کے سارے ہماری دعاؤں کے محتاج ہیں۔چنانچہ الحمدللہ کہ تحریک جدید نے ایک اور بہتر قدم یہ اٹھایا ہے کہ اب ایک ایسی اصلاحی کمیٹی بنائی گئی ہے، جو تمام ایسے مبلغین کی اولاد کی سر پرستی کرے گی ، جو باہر گئے ہوئے ہیں اور ان کو ان فکروں سے آزا در کھے گی۔ان کو یہ اطمینان ہوگا کہ مرکز میں کوئی ایسی کمیٹی ہے، جو باپ کا حق بھی ادا کر رہی ہے اور مربی کا حق بھی ادا کر رہی ہے۔اور جور پورٹیں اب تک آئی ہیں، ان سے میں بہت خوش ہوں کہ خدا کے فضل سے بڑی نمایاں اور پاک تبدیلی پیدا ہوئی ہے۔ایک موقع پر کمیٹی کی طرف سے سفارش آگئی کہ فلاں لڑکے نے یہ حرکت کی ہے، اس لئے اس کو سزادی جائے۔میں نے کہا: سزا کی تم نے بڑی جلدی سفارش کر دی ہے، یہ بھی تو بتاؤ کہ تم نے اصلاح کا حق ادا کر دیا تھا؟ تم نے اس بچے کی کیا نگرانی کی ہے، جس کے لئے سزا کی سفارش کر رہے ہو؟ جب تحقیق کی گئی تو پتہ لگا کہ کوئی حق ادا نہیں ہوا۔بہر حال چونکہ جرم اس نوعیت کا تھا کہ اسے کلیۂ نظر انداز بھی نہیں کیا 325