تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 307
تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء دعا ایک ایسی عظیم الشان چیز ہے کہ اس کے دو پہلو ہیں برکت کے۔اس کا وہ کنارا بھی با برکت ہے، جہاں سے یہ اٹھتی ہے اور وہ کنارا بھی بابرکت ہے، جہاں یہ پہنچتی ہے۔دعا کرنے والے کو قبولیت دعا سے پہلے دعا کی کچھ برکتیں نصیب ہو جاتی ہیں۔کیونکہ دعا کرنے والے کے دل میں ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔دعا اس کے اندر اپنے پیچھے ایک سچائی چھوڑ جاتی ہے۔اس کے اندر بعض ایسی اعلیٰ صفات پیدا کر جاتی ہے کہ ابھی قبول بھی نہیں ہوئی ہوتی اور اپنی برکتیں عطا کر دیتی ہے۔پھر جب دعا عرش الہی کے کنگروں تک پہنچتی ہے تو بے انتہائی برکتیں لے کر نازل ہوتی ہے۔تو جس کے دونوں کنارے با برکت ہوں، اس سے کیوں فائدہ نہ اٹھایا جائے؟ ایسی دعاؤں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی برکتوں - جماعت احمدیہ کو بے انتہا فوائد پہنچیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ قرآن کریم میں دنیا کی یا کائنات کی مثالیں پیش کر کے انہی مضامین بیان فرماتا ہے، اسی طرح دعا پر بھی غور کریں تو دنیا میں اس کی ایک بڑی عجیب مثال نظر آتی ہے۔جب پانی سے بخارات اٹھتے ہیں تو وہ بجلی کی ایک قوت سمندر میں چھوڑ جاتے ہیں اور ایک دوسری قوت آسمان میں لے جاتے ہیں۔یعنی اٹھتے وقت بھی قوت پیدا کر جاتے ہیں اور جہاں پہنچ رہے ہیں، وہاں بھی قوت پیدا کر دیتے ہیں۔بجلی کی ایک قسم مثبت یا منفی ( کہیں مثبت، کہیں منفی) سمندر کی سطح پر رہا جاتی ہے اور ایک قوت اٹھ کر آسمان پر چلی جاتی ہے اور دونوں مختلف سطحوں سے مختلف قسم کی قوتیں اٹھ رہی ہوتی ہیں۔کہیں سے مثبت اٹھ رہی ہے، کہیں سے منفی۔کہیں منفی پیچھے رہ رہی ہے، کہیں مثبت پیچھے رہ رہی ہے۔نتیجہ سارا آسمان قوت سے بھر جاتا ہے۔اور پھر جب بجلی کی وہ طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ عمل کرتی ہیں تو اس کے نتیجے میں فضلوں کی وہ بارش پیدا ہوتی ہے، جو آپ دیکھتے ہیں۔کچھ اس قسم کا نظام میں نے دعا کا بھی دیکھا کہ جب دعا خلوص کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ دل سے اٹھتی ہے تو ایسی دعا انسان کو پاک کر دیتی ہے۔انتظار نہیں کرواتی کہ میری قبولیت کا انتظار کرو۔اس کی ساری محنت کا بلکہ اس کی محنت سے کہیں بڑھ کر پھل اس کو عطا کر جاتی ہے۔پھر جب وہ فضل بن کر نازل ہوتی ہے تو انسان کہتا ہے کہ یہ تو فضل ہی فضل ہے۔میری دعا تو میرا اجر اور پھل مجھے دے گئی تھی۔جو کچھ ہے محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔پس اس جذبے کے ساتھ اور دعا کے اس فلسفے کو سمجھتے ہوئے دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو، ہمیں ساری ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔وہ خود ہمارے بوجھ اٹھانے والا ہو اور جس طرح باپ اپنے بچوں کا بوجھ پیار کے ساتھ اٹھاتا ہے اور بتاتا یہ ہے 307