تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 294 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 294

خطبہ جمعہ فرمودہ 03 دسمبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم اس غرض کے لیے جو اخراجات در پیش ہیں، وہ اس نوعیت کے نہیں ہیں کہ آخری وعدوں کی آخری وصولی آخری سال یعنی 1989ء میں ہو، تب بھی ہمارا کام چل جائے۔اخراجات میں سے ایک بہت بڑا حصہ اس نوعیت کا ہے کہ صد سالہ جشن سے چند سال پہلے اگر ساری وصولی ہو سکے تو زیادہ عمدگی کے ساتھ کام چل سکتے ہیں۔اور اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو یہ بھی خطرہ ہے کہ بعض بنیادی اور اہم ضرورت کے کام تشنہ تکمیل رہ جائیں۔لیکن اس وقت وصولی کی جو شکل سامنے آئی ہے ، وہ انتہائی فکر انگیز ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ اعداد و شمار چونکہ ایک الگ محکمے سے تعلق رکھتے تھے، یعنی اس کے لئے ایک سیکرٹری صد سالہ جو بلی برائے وصولی چندہ الگ مقرر تھا۔اس لیے منصوبہ بندی کمیشن کے سامنے چندہ کی تدریجی وصولی کے اعداد و شمار نہ پیش ہوئے ، نہ ان سے اس کمیشن کا کوئی تعلق تھا، لیکن اب جب میں نے یہ اعداد و شمار نکلوائے تو یہ فکر انگیز صورت سامنے آئی کہ تدریجی وصولی کے لحاظ سے اب تک جتنا وقت گزر چکا ہے، اس نسبت سے جو وصولی ہونی چاہئے تھی، وہ نہیں ہوئی۔یعنی دس کروڑ ستر لاکھ، اکہتر ہزار دوسو، ستائیس (10,77,71,227) میں سے چھ کروڑ، بیالیس لاکھ، چھیانوے ہزار، آٹھ سو، ترین (6,42,96,853 رو پید اب تک وصول ہو جانا چاہئے تھا۔اس کے مقابل پر اس وقت تک کل وصولی صرف تین کروڑ ، پچپن لاکھ، انسٹھ ہزار دوسو، چونتیس (3,55,59,234) روپیہ ہے۔گویا دس کروڑ ستر لاکھ کے وعدوں میں سے سات کروڑ روپیہ بقیہ چند سالوں میں قابل وصول پڑا ہوا ہے۔اس کا مزید تجزیہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان کاکل وعدہ پانچ کروڑ ، بیالیس لاکھ ، اکانوے ہزار دوسو، تر اسی روپے تھا۔اس کے مقابل پر پاکستان کو اب تک وصولی کی شکل میں تین کروڑ ، پچیس لاکھ ، چوہتر ہزار، سات سو انہتر (3,25,74,769) روپے پیش کر دینا چاہئے تھا۔لیکن ادائیگی صرف ایک کروڑ ، ستاون لاکھ ، نواسی ہزار ، نوسو، اٹھارہ (1,57,89,918) روپے ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اب تک بھی پاکستان کی جماعتیں اس چندے میں اللہ تعالیٰ کی ایک کروڑ ، ستاسٹھ لاکھ ، چوراسی ہزار ، آٹھ سو، اکاون (1,67,84,851) روپے کی مقروض ہو چکی ہیں۔اور بقیہ وعدہ اگر تدریجا دیں اور جلدی نہ دیں، حالانکہ جلدی دینے کی ضرورت ہے، ( ضرورت یہ ہے کہ آخری سال سے دو، تین سال پہلے سب روپیہ وصول ہو جائے۔تب بھی ایک کروڑ ، ستاسٹھ لاکھ ، چوراسی ہزار روپے کا مزید باران کے اوپر ایسا پڑا ہوا ہے، جو بظاہر پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔سوائے اس کے کہ جماعتیں غیر معمولی قربانی اور فکر اور ہمت سے کام لیں۔تو پاکستان کی جماعتوں کو اب تک جو ادا کرنا چاہئے تھا، اس میں سے نصف بھی ادا نہیں ہو سکا۔یعنی اس کی وصولی صرف 48 فیصدی ہے۔294