تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 289
تحریک جدید - ایک البی تحریک جلد ششم خطاب فرمودہ 02 دسمبر 1982ء اس کا کیا حل ہے؟ کچھ حصل تو ہم نے سوچے ہیں اور اللہ تعالیٰ کچھ اور بھی سمجھائے گا۔انشاء اللہ۔کم سے کم روپے میں ہم اس کا کس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں؟ اس کے کئی ذرائع ہیں، جو اختیار کئے جاسکتے ہیں۔ان میں سے ایک ذریعہ یہ ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ساتھ رابطہ قائم کیا جائے۔ان کو اس رنگ میں چیلنج دیا جائے کہ وہ Debate یعنی مباحثہ کروانے پر مجبور ہو جائیں۔اگر ہم ذہنی طور پر اور علمی طور پر پوری طرح تیار ہوں تو اللہ تعالٰی بعد میں ان چیزوں کو آسان فرما دیتا ہے۔ابھی تین دن ہوئے، میر محمود احمد صاحب ناصر مبلغ سپین کی ایک رپورٹ سے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ خود ہی ایسے انتظام فرمارہا ہے کہ ہماری کم مائیگی کے بدلے ان لوگوں کی دوستیں ہمارے کام آنے لگی ہیں۔اور اللہ تعالی اسلام کے حق میں ان کے وسائل استعمال کرنے کے مواقع مہیا فرما رہا ہے۔چنانچہ میر صاحب کو سپین کے ریڈیو نے دعوت دی کہ آپ ایک عیسائی پادری کے ساتھ مذاکرہ کریں اور یہ مذاکرہ ہم اپنے پروگرام میں نشر کریں گے۔چنانچہ ڈیڑھ گھنٹہ تک میر صاحب کو وہاں تقریر کرنے کا موقع ملا۔میر صاحب اردو میں بول رہے تھے۔اور ہمارے مبلغ عبدالستارخان صاحب مترجم تھے۔مکرم میر صاحب بڑی اچھی طرح تیار تھے۔ویسے بھی ان کا عیسائیت کے بارہ میں علم اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا گہرا ہے۔یہاں جامعہ احمدیہ میں عیسائیت کے پروفیسر بھی رہے ہیں۔انہوں نے چند سوال کئے ، جن سے پادری صاحب اتنا گھبرا گئے کہ انہوں نے اپنا وقت استعمال ہی نہیں کیا اور اس وقت کا اکثر حصہ میر صاحب کو سارے سپین کو تبلیغ کرنے کے لئے مل گیا۔پس اگر ایک طرف نظر ڈالیں تو بے بسی اور کم مائیگی کے سوا کچھ نظر ہی نہیں آتا۔اور تقاضے اتنے زیادہ ہیں کہ انسان (اکسائیٹڈ Exited) مضطرب ہو جاتا ہے اور ہیجان پکڑ جاتا ہے کہ میں کیا کروں اور کس طرح ان کو پورا کروں؟ دوسری طرف اس بے بسی کے نتیجہ میں دل سے دعا نکلتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا فضل نازل ہوتا ہے اور کچھ بھی نہ ہونے کے باوجود ذرائع مہیا فرما دیتا ہے۔اب اندازہ کریں کہ سارے پین کے لئے خدا تعالیٰ نے کتنی جلدی تبلیغ کا انتظام کر دیا۔مجھے کامل یقین ہے اور ہر احمدی کو بھی یہ یقین ہے کہ اگر ہم دیانتداری کے ساتھ جو کچھ ہمارا ہے، وہ پیش کر دیں گے تو جو کچھ خدا کا ہے، وہ اس میں مل جائے گا۔پھر ہمیں کوئی بھی کمی نہیں رہے گی۔کیونکہ سب کچھ خدا کا ہے۔اس نے اپنے ساتھ اتنا پیارا سودا کرنے کا ارشاد فرمایا ہے کہ اپنا قطرہ میرے سمندر میں ڈال دو، میر اسمندر بھی تمہارا ہو جائے گا اور تمہارا قطرہ میرا ہو جائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ” جے توں میرا ہور ہیں سب جگ تیرا ہوا“ ( تذکره صفحه 471 طبع سوم ) 289