تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 271 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 271

تحریک جدید - ایک الہی تحریک خطاب فرمودہ 25 نومبر 1982ء گھروں سے نکلے ہیں، پہلے گھروں کی خبر دیجیے، آپ کو آپ کی قوم کیا بجھتی ہے؟ اور آپ میں اور دوسرے مسلمانوں کے اندر اعتقادی فرق کیا ہے؟ اس فرق میں الجھا کر ان کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ نہیں یورپ کے سامنے حقیر اور بے حقیقت اور بے بس دکھا دیا جائے۔چنانچہ ایسے سوالات کے جوابات میں نے کس طرح دیئے ؟ ہم ان کو کس طرح تبلیغ کرتے تھے؟ اس کا میں ایک نمونہ پیش کرتا ہوں۔میری یہ کوشش ہوتی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ہمیشہ اس میں کامیابی عطا فرمائی کہ اندرونی جھگڑوں کی بحث میں پڑنے کی بجائے مجلس کو اسلام اور عیسائیت کے درمیان جنگ میں تبدیل کر دیا جائے۔چنانچہ اس سوال کا رخ میں اس طرح موڑا کرتا تھا کہ ان سے میں کہتا تھا بھائی ! آپ نے ایک عجیب سوال کیا ہے، جو آپ جیسے صاحب علم آدمی کے لئے بڑا تعجب انگیز ہے۔معلوم ہوتا ہے، آپ نے مطالعہ تو کچھ کیا ہے لیکن پورا نہیں کیا۔آپ کا سوال بہت محدود ہے۔جب آپ یہ کہتے ہیں کہ آپ میں اور دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ تو آپ کا سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ آپ میں اور دوسرے مسلمانوں میں کیا فرق ہے؟ تو آپ کا سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ آپ میں اور دوسرے مسلمانوں اور عیسائیوں میں کیا فرق ہے؟ وہ کہتے تھے، یہ کیا بات ہوئی ؟ یہ تم نے عجیب سوال کیا ہے۔ہم ایسا سوال کیوں کریں؟ میں نے کہا: میں بتاتا ہوں کہ فرق مشترق ہے۔فرق یہاں سے شروع ہوتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام ) جن کو تم خدا کا بیٹا مانتے ہو اور یہ بھی مانتے ہو کہ وہ زندہ آسمان پر ہیں۔انہیں مسلمان خدا کا بیٹا تو نہیں مانتے لیکن وہ ان کی زندگی کے عقیدہ میں تمہارے شریک ہیں۔بائبل نے بھی خبر دی ہے کہ وہ دوبارہ آئیں گے اور بعض احادیث میں بھی کہا گیا ہے کہ وہ آئیں گے۔پس تم دونوں مانتے ہو کہ وہ زندہ ہیں اور بعینہ اسی جسم کے ساتھ دوبارہ آئیں گے ، جس جسم کو لے کر وہ آسمان پر چڑھ گئے تھے۔ہم کہتے ہیں، یہ سارے حقیقی علم کو نہ سمجھنے کے قصے ہیں۔جب قو میں اپنی مذہبی اصطلاحوں کو سمجھنا چھوڑ دیتی ہیں، جب ان کے فلسفہ اور حکمت سے ناواقف ہو جاتی ہیں ، تب وہ ظواہر پر ان باتوں کو شمول کر لیا کرتی ہیں۔مسیح کا دوبارہ آنا تو مقدر تھا لیکن تمثیلی طور پر آنا تھا۔جس نے آنا تھا، اس کو مسیح کا نام دیا جانا تھا۔میں نے کہا: تم یہ کہو گے، یہ تو تمہارا دعوی ہے۔میں نے کہا: آپ تو اسلام پر ایمان نہیں رکھتے ، قرآن کی دلیلیں تو نہیں سن سکتے۔اس لئے اب میں بائبل کے دلائل بتادیتا ہوں ، پھر آپ مجھے بتائیں کہ محض دعویٰ ہے یا ثبوت بھی موجود ہے۔چنانچہ اس طرح وہ سوال، جو ہمارے اور دوسرے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ کو اچھالنے کے لئے وہ کیا کرتے تھے، وہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان ایک تقابلی صورت میں تبدیل ہو جاتا تھا۔چنانچہ 271