تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 252
خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک دروازوں کی دستک ، دلوں کی دستک میں تبدیل ہو جائے۔یہ دستک دلوں میں ایک شور بپا کر دے۔ہم خدا کے حضور روئیں گے اور آنسو بہائیں گے۔اور یقین رکھتے ہیں کہ آنسووں کے ہر قطرہ سے اللہ تعالی محض الشان روحانی وجود پیدا کرے گا۔پس یہ سرمایہ ہے، جو ہم لے کر آئے ہیں۔تم اس کا مقابلہ کر سکتے ہو تو کر لو تمہارے لیے یہ ایک چیلنج ہے۔اور یہ چیلنج اتنا قوی، اتنا مضبوط ، اتنا یقینی ہے کہ تمہاری ساری طاقتیں ان آنسوؤں کے مقابل پر نا کام ہو جائیں گی۔ہم خلوص نیت کے ساتھ تمہارے دلوں کے جب دروازے کھٹکھٹائیں گے تو لازماً تمہارے دل بیدار ہوں گے۔اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دلے جائیں گے۔اور کوئی ان کو پھر بند نہیں کر سکے گا۔وه پس دعا کی یہی وہ طاقت ہے، جس پر ہماری ساری بناء ہے۔اس لیے مستورات کو بھی چاہیئے کہ وہ کثرت سے دعا ئیں کریں۔مردوں کے مقابل پر ان کے دل پہلے ہی خدا نے نرم بنائے ہوتے ہیں، اس لحاظ سے اگر سوچیں تو عورت کے لیے دعا کے زیادہ مواقع مہیا ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ نسبتا زیادہ نرم دل بنائی گی ہے۔اور دعا کے لیے دل کی نرمی ایک بہت ہی ضروری چیز ہے۔کیونکہ منہ سے نکلی ہوئی دعا کی تو کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی۔دعا تو وہ ہوتی ہے، جو دل کی گہرائی سے اٹھے۔پس اس طرح دعائیں کریں، جس طرح قرآن کریم دعا کے نقشے کھینچتا ہے۔اور کہتا ہے کہ عباد الرحمان ایسی نمازیں پڑھتے ہیں کہ خاشعین ہو جاتے ہیں۔خدا کے حضور روتے اور گڑگڑاتے ہوئے جھک جاتے ہیں۔ایسے لوگوں کی دعائیں قبول کی جاتی ہیں۔پس بہت دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔ہم تبلیغ واشاعت اسلام کا جو پروگرام بنائیں ، ادنی اور حقیر سہی ، بظاہر بہت معمولی سہی ، دنیا کی نظر میں خواہ اس کی کوئی حیثیت نہ ہو مگر خدا کی خاطر ہم جو پروگرام بھی بنائیں، اللہ تعالیٰ کی رحمت اسے قبول فرمائے۔اور ہماری دعا ئیں بارگاہ الہی میں اس طرح پہنچیں کہ ایک ماں کی آہ ساری امت کی آہ میں تبدیل ہو جائے۔اور وہ آہیں خدا قبول کرے اور با غیرت بیٹے ہمیں عطا کرے، جو اپنی جان، اپنا مال حتی کہ اپنا سب کچھ خدا کی راہ میں لٹانے کے لئے تیار ہو جائیں۔اور پھر سر زمین اندلس میں پہنچیں اور اپنے خون سے اس مردہ زمین کی آبیاری کریں۔محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے زندگی بخش جام ان کو پلائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق فرمائے“۔مطبوعه روزنامه الفضل 15 دسمبر 1982ء) 252