تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 248
خطاب فرمودہ 21 نومبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم اثر ہے۔جہاں عیسائیت کا اثر نہیں، وہاں اشتراکیت نے مضبوطی سے پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ایسی صورت میں یہ تصور کر لینا کہ ایک، دو، تین تو کیا تین سو مبلغ بھی کافی ہو سکتے ہیں محض ایک بچگانہ خیال ہے۔اس سے زیادہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔جبکہ وسائل کا یہ حال ہو کہ ہمارے پاس ساری دنیا میں تین سو مبلغ نہیں۔اس طرح وہاں ایک مسجد بنادینا اور یہ خیال کر لینا کہ ہم نے چین کو دوبارہ فتح کر لیا ہے۔یہ بھی ایک رومانوی تصور کہلا سکتا ہے، حقیقت سے اس کا بھی کوئی تعلق نہیں۔مسجدیں تو وہاں آج تک ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔بنانے والوں نے وہاں اتنی مسجدیں بنائیں کہ بعد میں گرجوں میں تبدیل کرنے والے آج تک تبدیل کرتے رہے، پھر بھی مساجد باقی رہ گئیں۔گویا سات سو سال تک مسجدوں کو گر جا گھروں میں تبدیل کرنے والے اپنا زور لگاتے رہے اور ہر سال کچھ مسجدمیں گرجا گھروں میں تبدیل ہوتی رہیں۔لیکن پھر بھی آج ہزاروں مسجدیں باقی ہیں، جو نمازیوں کو بلا رہی ہیں۔ان مسجدوں کے ہوتے ہوئے بھی پین کی سرزمین سے اسلام کا نام مٹ گیا۔اس لیے مسجد میں اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں، جب تک ان مسجدوں کو زندہ کرنے والے موجود نہ ہوں۔اور مسجد میں عباد الرحمان سے زندہ ہوا کرتی ہیں، خدا کی راہ میں آنسو بہانے والوں سے زندہ ہوا کرتی ہیں، ان پیشانیوں سے زندہ ہوتی ہیں، جو خدا کے حضور سجدہ ریز ہوتی ہیں، مسجد میں ان دلوں سے زندہ ہوتی ہیں، جو خدا کے حضور خشیت سے پارہ پارہ ہور ہے ہوتے ہیں۔پس عبادالرحمان پیدا کرنے پڑیں گے۔اور پہین میں غلبہ اسلام کی مہم تیار کرنی ہوگی۔اس غرض سے خصوصاً یورپ میں، میں نے یہ تحریک کی تھی کہ لوگ اپنے شوق سے ہر سال چھٹیاں گزار نے باہر جاتے ہیں۔اور سپین میں بھی بڑی کثرت سے لوگ جاتے ہیں۔کیوں نہ وہ خالصہ اس نیت سے وہاں جائیں کہ انہوں نے چین کی سرزمین کو اسلام کے لیے فتح کرنا ہے۔لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تیاری کریں، زبان سیکھنا شروع کریں، بچوں کہ دلوں میں ولولے پیدا کریں۔بڑے بھی جائیں ، چھوٹے بھی جائیں۔مرد بھی جائیں عورتیں بھی جائیں۔لوگوں سے تعلقات قائم کریں۔اور پھر جن دوستوں کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے ، وہ بحیثیت احمدی مسلمان اپنی خدمات مسجد بشارت سپین میں واقع مشن کے سپرد کر دیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے یورپ کی جماعتوں نے بڑی گرمجوشی سے اس سکیم پر لبیک کہا ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ بہت جلد اس پر عمل شروع ہو جائے گا۔پاکستان سے بھی بعض احباب نے اپنے نام پیش کیے ہیں کہ وہ اپنی چھٹیاں انشا اللہ تعالیٰ اپنے خرچ پر چین میں جا کر 248