تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 198

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 29 اکتوبر 1982 ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم کمیٹی ہو، جو اس بات پر غور کرتی رہے کہ کن غرباء کو کس حد تک ہم نے امداد دینی ہے؟ یہ تو ایک ظاہر بات ہے کہ جماعت احمدیہ پر اتنے مالی بوجھ ہیں اور حمد کے اظہار کے اتنے بکثرت اور مختلف ذرائع ہمارے سامنے کھلے ہیں کہ ہم کسی ایک ذریعہ پر اپنی ساری قوتیں خرچ نہیں کر سکتے۔ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ محدود ہے۔ہر چند تمنا میں بے قرار ہیں اور بے انتہاء ہیں۔رستے تو بے شمار کھلے ہیں ، حمد کے عملی شکرانے کے اظہار کے لئے لیکن تو فیق سر دست بہت محدود ہے۔اس لئے ہر کام کی طرف حصہ رسدی توجہ ہی کر سکیں گے۔اللہ تعالیٰ کے شکرانے کا یہ ایک ایسا عملی پہلو تھا، جو آج تک خالی پڑا تھا۔اس کی طرف بھی توجہ ضروری تھی کہ خدا کے گھر بنائیں تو خدا کے غریب بندوں کے گھر بھی بنائیں تا کہ خالق کے حقوق کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا ہوں“۔ہمارا فرض ہے کہ ان کے لئے کچھ نہ کچھ کریں۔جتنی توفیق ہے۔تھوڑی سہی ، تھوڑی کریں۔لیکن اللہ تعالی کی حد کا عملی صورت میں ایک یہ اظہار بھی کریں کہ ہم اس کے بندوں کے گھروں کی طرف کچھ توجہ دے رہے ہیں۔ویسے تو یہ اتنی بڑی ضرورت ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں بھی اس کو پورا نہیں کر سکتیں۔مگر مجھے اللہ کے فضل سے توقع ہے کہ چونکہ جماعت احمد یہ اس زمانہ میں وہ واحد جماعت ہو گی، جو محض رضاء باری تعالیٰ کی خاطر یہ کام شروع کرے گی۔اس لئے اللہ اس میں برکت دے گا اور کروڑوں روپوں کے مقابل پر ہمارے چند روپوں میں زیادہ برکت پڑ جائے گی۔اور اس کے نتیجہ میں جماعت کے غرباء کا ایمان بھی ترقی کرے گا اور اللہ کے فضل بھی ان پر نازل ہوں گے۔یہ کن شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے؟ میں اس سکیم کا آج اعلان کرنا چاہتا ہوں۔سب سے پہلے تو میں اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ کی ایک حقیری رقم اس مد میں پیش کرتا ہوں اور ساتھ ہی صدر انجمن احمدیہ کی طرف سے دولاکھ روپے اس مد میں پیش کرتا ہوں۔انجمن کی جو بچت ہوتی ہے، اس کا اکثر استعمال تعمیرات پر ہوتا ہے۔تو ان تعمیرات کے لئے خدا تعالیٰ نے ہمیں جو تمہیں عطا فرمائی ہیں، اس کے شکرانے کا بھی یہ ایک اظہار ہو گا کہ اس میں سے دولاکھ روپے غرباء کی عمارات کے لئے ان کی مدد کے لئے وقف ہوگا۔اور انشاء اللہ تعالی سال بہ سال اس کی جو شکلیں بنیں گی ، وہ ہمارے سامنے آتی چلی جائیں گی۔تحریک جدید اور وقف جدید اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماءاللہ کے مالی حالات اس وقت میرے سامنے نہیں ہیں۔لیکن ان کو بھی میں تحریک کرتا ہوں کہ یہ انجمنیں اور تنظیمیں اپنی توفیق کے مطابق کچھ نہ کچھ ضرور اس پر میں وقف کریں۔مطبوعہ روزنامہ الفضل 27 نومبر 1982ء) 198