تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 191

تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ارشادات فرمودہ 23 اکتوبر 1982ء حکیم صاحب نے عرض کیا: میں نے اس بارے میں مرکز کو توجہ دلائی تھی۔فرمایا۔آپ جیسا آدمی وہاں رہا ہے۔آپ کا فرض تھا کہ لٹریچر پیدا کرتے۔اس کے متعلق صرف مرکز کو لکھنے کی بات نہیں۔ہر احمدی کو خود کام کرنے والا احمدی بننا چاہئے۔صرف مشورہ دینے والا نہیں ہونا چاہئے۔پس جو احمدی دوست بھی بدھسٹ علاقہ میں رہتے ہیں یا رہنے کا موقع ملتا ہے۔ان کا اولین فرض ہے کہ وہ لٹریچر پیدا کریں۔میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتاتا ہوں۔میں جب سیلون گیا تو میں نے احمدی دوستوں سے پوچھا کہ صرف تامل سپیکنگ اور تلنگو سپیکنگ انڈیا سے ہجرت کر کے یہاں آباد ہوئے ہیں، ان ہی میں سے احمدی ہوئے ہیں، بدھوں میں سے کوئی نہیں ہوا۔اس کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے : یہ بڑی سخت قوم ہے، لوگ قابو نہیں آتے۔یہ چکنا گھڑا ہے، جس پر پانی پھسل کر ادھر ادھر چلا جاتا ہے۔یہ دراصل نفس کا بہانہ تھا ور نہ حقیقت یہ ہے کہ بدھ قوم میں عیسائیوں نے کامیاب تبلیغ کی ہے تو ہم کیوں نہ کریں؟ ہمارا تو بہت زیادہ Effective Message یعنی پر اثر پیغام ہے۔جہاں بھی عیسائیت سے مقابلہ ہوا ہے، ہر جگہ عیسائیت نے شکست کھائی ہے۔پس یہ صرف نفس کا ایک بہانہ تھا۔اللہ تعالی نے اس کو ایک اور رنگ میں ثابت فرما دیا۔ہوا یہ کہ جب ہوائی جہاز پر میں سیلون پہنچ رہا تھا تو رستے میں موسم شدید خراب ہو گیا۔اس قسم کا خوفناک موسم تھا کہ لوگوں نے چیخ و پکار اور گریہ وزاری شروع کر دی۔خدا کے فضل سے موسم جب ٹھیک ہو گیا اور جہاز اترنے لگا تو میرے ساتھ بیٹھے ہوئے آدمی نے اپنا تعارف کروایا کہ میں سیلون میں نائب وزیر ہوں۔آپ کون ہیں؟ میں نے کہا: میں ایک مسلمان ہوں، پاکستان سے آیا ہوں۔اس نے کہا: آپ تو مسلمان نہیں لگتے ، کچھ اور لگتے ہیں۔کیونکہ جو باقی مسلمان تھے، وہ تو سارے شور مچارہے تھے۔آپ نے کوئی شور نہیں بچایا اور خاموش بیٹھے رہے ہیں۔میں نے اس کو کہا کہ ہمارے ہاں زندگی کے تسلسل کا عقیدہ ہے۔موت صرف حجاب ہے۔اور زندگی ہے ہی بے معنی اور مختصری چیز کسی وقت خدا بلالے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔جب بلالے حاضر ہیں۔اس لئے مجھے تو و ہم بھی نہیں تھا کہ کوئی فکر والی بات ہے۔میں نے کہا: اللہ کی مرضی ہوئی چلے جائیں گے، نہ مرضی ہوئی بیٹھے رہیں گے۔کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ مجھے کہتا ہے کہ تم بتاؤ تم ہو کون؟ یہ تو عام بات نہیں ہے۔میں نے کہا: میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھتا ہوں۔چنانچہ میں نے اپنا کچھ تعارف کروایا۔اس نے مجھ سے وعدہ لیا کہ میں اس کے گھر کچھ دیر کے لئے جاؤں۔کینڈی ایک جگہ ہے، جہاں اس کا گھر تھا۔اب یہ اللہ کی شان ہے کہ کینڈی وہ جگہ ہے، جہاں میں جانا چاہتا تھا لیکن پیسے نہیں 191