تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 181
تحریک جدید - ایک الہی تحریک اقتباس از خطبه جمعه فرمود ه 122 اکتوبر 1982ء ایسی عورت ایک نہیں تھی، دو، تین نہیں تھیں۔بہت ساری ایسی مائیں مجھے ملیں ، جنہوں نے یہی درخواست کی کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس وطن کو چھوڑ کر نکل جائیں۔بہت سے ایسے نوجوان ملے، جنہوں نے کہا کہ بظاہر ہم یہاں بہت خوش ہیں، ہمیں کوئی تکلیف نہیں ، Job بھی ہے لیکن دل اچاٹ ہو گیا ہے بری طرح۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے ان چیزوں کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔آج ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے۔لیکن ہمیں پتہ ہے کہ کل ہمارے بچے جب بڑے ہوں گے تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔اس لیے ہمیں اجازت دیں کہ ہم واپس آجائیں۔میرا دل حیران بھی ہوتا تھا اس نظارے سے اور خوش بھی ہوتا تھا کہ خدا کے ایسے مومن بندے، باوقار بندے، آزاد بندے جماعت احمدیہ کے افراد کی حیثیت سے، یورپ میں بس رہے ہیں، جن پر اس سوسائٹی کا ادنی سا بھی اثر نہیں ہے۔ایک ماں روتی ہوئی آئی اور مجھے کہا کہ میرے بعض بچے دین میں کم دلچسپی لے رہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ میری زندگی کی ساری کمائی ضائع ہو گئی۔آخر میں نے یہاں آکر محنت کی تھی ، ان بچوں کو بنایا تھا۔ان کو اس لیے بنایا تھا کہ یہ کچھ حاصل کر جائیں۔مگر دنیا حاصل کر لیں اور دین کھو جائیں، یہ تو میرا مقصد نہیں تھا۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میں ایک ویرانے میں پہنچ گئی ہوں۔ساری زندگی کی کمائی آخر پر حسرت کے سوا کچھ نہیں رہی۔فَتَريهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَجْعَلُهُ حُطَامًا کا کیسا اچھا نظارہ انہوں نے کھینچا۔لیکن ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سوکھی کھیتی کو پھر ہرا بھرا کر دے۔چنانچہ اس کے کفارے کے طور پر انہوں نے اپنے ہاتھ کا ساراز یورا تار کے دین کے رستے میں پیش کر دیا کہ اگر میری گریہ وزاری قبول نہیں ہوتی تو خدا اس بات پر رحم کرے اور دیکھ لے کہ مجھے دنیا کے مال سے کوئی محبت نہیں۔مجھے میری اولا د چاہئے۔اس لیے میری دعا ہے کہ اللہ مجھے میری اولا دواپس کر دے۔میں نے یہ مضمون اس لیے چھیڑا ہے کہ آپ بھی حقیقت میں آزاد مردوں اور آزاد عورتوں کی طرح زندگی گزاریں۔یعنی دنیا کی لذتوں سے آزاد اور صرف اللہ کی طرف جھکنے والے۔کیونکہ جو لوگ باہر گئے ہیں، انہوں نے بغور قریب سے اس سوسائٹی کا مطالعہ کر کے وہی نتیجہ اخذ کیا ہے، جو قرآن کریم ان آیات میں پیش فرما رہا ہے۔اور جہاں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے دعائیں کریں، وہاں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں اور بچوں کے لیے بھی دعائیں کریں، جو غیر ملکوں میں بس رہے ہیں۔کئی قسم کے خطرات ان کو درپیش ہیں اور ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ ہم ان سب کو واپس آنے کی بھی اجازت نہیں دے سکتے۔181