تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 161

تحریک جدید - ایک البی تحریک۔۔۔جلد ششم حضور نے فرمایا:۔اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 18 اکتوبر 1982ء چوٹی کے ایک فلاسفر سائنوزا نے ریاضی کے ذریعے سے خدا کا وجود ثابت کیا تھا۔اس نے جو نقشہ پیش کیا ہے، وہ ایک حد تک حضرت مسیح موعود کے اس نقشہ سے ملتا ہے، جو حضور اقدس نے صفات باری کے بارے میں پیش کیا اور اب شواہد سے ثابت ہو رہا ہے کہ یہ نظر یہ درست تھا۔حضور رحمہ اللہ نے نظریہ ارتقاء (Evolution) کے بارے میں نہایت گہری اور دلچسپ علم بحث فرمائی اور بتایا کہ وو یہ نظریہ پہلے سائنس کو خدا تعالیٰ سے دور لے گیا۔مگر اب ایک طبقہ یہ ماننے لگ گیا ہے کہ ارتقاء تو درست ہے مگر ڈارون کی تھیوری درست نہیں۔حضور نے فرمایا:۔" مجھے ایک احمدی سائنس دان کا یہ مضمون دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی، جس نے ارتقاء پر دو بنیادی اعتراضات کئے۔اول : آنکھ کی بناوٹ۔اس نے اعتراض کیا کہ آنکھ کی بناوٹ کا ارتقاء سے تعلق نہیں۔کیونکہ یہ ایک متحدہ یونٹ ہے اور ارتقاء مختلف ٹکڑوں میں ہوتا ہے۔اس بات کو کسی پیمانے لیں، درست ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ ارتقاء کا انحصار بیرونی عوامل پر ہے۔لیکن بیرونی عوامل کبھی بھی اندرونی کیمیائی تبدیلیوں پر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔یہ دوسرا بڑا اعتراض تھا“۔حضور نے فرمایا:۔بعینہ یہی دو باتیں گذشتہ دنوں ایک چوٹی کے سائنسی ڈائجسٹ میں ایک مضمون میں بیان کی گئیں۔حضور نے فرمایا:۔دو ایک اور سائنسدان نے بلائنڈ ارتقاء کے خلاف ایک حسابی نظریہ پیش کیا ہے کہ سائنس کے اس نظریے کی مثال اسی طرح سے ہے کہ ایک آدمی مختلف حروف کی مختلف گیٹیاں ایک جگہ پھینکے اور ان سے اتفاق سے ایک لفظ بن جائے۔پھر دوبارہ ایک ایک حرف کر کے گیٹیاں پھینکے تو دوسر الفظ بن جائے۔جو پہلے لفظ سے مطابقت رکھتا ہو۔اس لحاظ سے ہر بارا تفاق سے چند الفاظ نہیں ، جو پہلے لفظ کی مطابقت سے ایک جملہ بنائیں۔اور ہر بارا اتفاق سے لفظ بن جانے کی صورت میں 25 الماریاں نہایت با معنی سائنٹیفک اور فلسفیانہ مضامین کی کتب کی بھر جائیں۔جو عملا عقل انسانی سے باہر اور قطعی ناممکن ہے۔161