تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 160
اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 18 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک حضور نے فرمایا:۔25 گذشتہ ایک، دوصدیوں پیشتر سائنس پر بہت ظلم ہوا ہے۔جب سائنس یورپ میں بیدار ہوئی تو اس نے چرچ کے خلاف بغاوت کی۔اس کشمکش میں یہ تاثر علمی حلقے کا تاثر بن گیا کہ سائنس اور مذہب دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔اور اس طرح سے یہ دوری بڑھتی گئی۔اور سائنس کو دہریت کا نام اور مذہب کو ایسے تصورات کا نام دے دیا گیا، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔اس سے یہ ہوا کہ اگر مذہب کی کوئی بات کی جاتی تو سائنس دان اسے سائنس سے باہر شمار کرتے لیکن اب وہ وقت بدل رہا ہے۔اب جو تازہ تجربات سائنس دانوں نے کئے ہیں، ان کے پیش نظر اب 25 فیصدی سائنس دان جرات سے خدا تعالیٰ کی بات کرنے لگے ہیں۔اس قسم کا پرانا تصور اب باقی نہیں رہا کہ خدا کی بات کرو گے تو غیر معقول کہلائے گی۔اور اب یہ صورت حال ہے کہ ایک فیصد سائنس دان اپنے علم سے خدا تعالیٰ کی خدائی کی دلیل دیتے ہیں۔جن سائنسدانوں نے خدا تعالیٰ اور مذہب کا انکار کیا تھا، ان کو حیران کن مشاہدات کا سامنا کرنا پڑا۔جن کا ان کے پاس کوئی جواب نہیں۔وہ مجبور ہیں کہ خدا کی طرف دیکھیں۔ابھی یہ آواز دبی دبی اٹھے رہی ہے۔ایک طبقہ وہ ہے، جو اس پر صرف حیرت کا اظہار کر رہا ہے۔مگر ایک وہ طبقہ بھی پیدا ہو گیا ہے، جو یسے مشاہدات کو واضح طور پر خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کرتے ہیں“۔حضور نے اس ضمن میں دنیا کے کئی علوم کے بارے میں تازہ ترین تحقیق کا ذکر فرمایا اور اپنے بے مثال علم سے احمدی طلباء کے ذہنوں کو نئی راہ دکھائی۔حضور نے پہلے فلکیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ تخلیق کائنات کے بارے میں بگ بین تھیوری کو اب زیادہ شواہد تقویت دے رہے ہیں۔اور سائنس دانوں نے ریڈ شفٹ فارمولے کے ذریعے جو حسابات لگائے ہیں، اس سے تخلیق کائنات کے قرآنی نظریے کی تصدیق ہوتی ہے۔حضور نے اس ضمن میں بڑی باریک اور گہری تفصیلات بھی بیان فرمائیں اور فرمایا کہ۔۔۔ایک نوبل انعام یافتہ سائنسدان کہتا ہے کہ ایک زمانے میں ہم نے اہل مذہب کو دیکھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے تصور کے پاس بیٹھے تھے۔ہم نے اسے نہ مانا اور ایک لمبے سفر پر روانہ ہو گئے۔دو سو سال کے طویل سفر کے بعد ہماری سائنسی دریافتیں ہمیں واپس اسی جگہ پر لے آئیں ہیں، جہاں پر اہل مذہب بیٹھے تھے۔160