تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 143 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 143

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم خطاب فرمودہ 17 اکتوبر 1982ء کوڑے مارنے والے ساتھ کھڑے ہوتے تھے۔بڑی بڑی بوتلوں میں اس طرح بند کر دیا جاتا تھا کہ وہ ہاتھ اور پاؤں ٹیڑھا کرنے کی گنجائش نہیں پاتے تھے۔صرف سانس کے لئے کارک میں سوراخ رکھا جاتا تھا تا کہ مر نہ جائے۔اور انتہائی اذیت میں وہاں وہ آدمی اسی طرح کھڑا رہتا تھا اور سسک سسک کر مدتوں کے بعد جان دیتا تھا۔اور جب تک وہ اس جرم کا اقرار نہیں کر لیتا تھا، جو جرم اس نے نہیں کیا ہوتا تھا، اس وقت تک اسے یہ سزا اس لئے ملتی تھی کہ Confess کرے۔یعنی اقرار جرم کرے۔اور جب وہ Confess کر لیتا تھا تو کہتے تھے، دیکھا جھوٹے اب سمجھ آئی تمہیں۔اب تمہیں اس کی سزا ملے گی۔یعنی پہلے زبردستی جھوٹ بلوا کر اس سے اس جرم کا اقرار کر وایا جاتا تھا، جو اس نے کیا ہی نہیں تھا۔پھر اس کے بعد اس جرم کی سزا دی جاتی تھی، جو اس بیچارے نے اس پہلے ظلم سے تنگ آکر مان لیا ہوتا تھا۔میہ وہ ملک تھا، جہاں مسجد احمد یہ یا اسلامی مسجد بنانے کے لئے پہلی مرتبہ حضرت خلیفة المـ الثالث تشریف لے گئے۔جب حضور پہلی دفعہ وہاں گئے تو اس وقت بھی ابھی پین میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی۔ایسی شدید مذہبی حکومت وہاں قائم تھی کہ جس کے نتیجہ میں غیر عیسائی فرقوں کو بھی وہاں چرچ بنانے کی اجازت نہیں تھی۔جہاں تک میر اعلم ہے، ابھی تک غالبا رومن کیتھولکس کے سوا اور دوسرے چرچ وہاں نہیں ملیں گے۔وہاں حضور نے دعائیں کیں، وہاں گریہ وزاری کی، اللہ تعالیٰ سے التجائیں کیں کہ اے اللہ تعالی ! وہ پاک تبدیلی فرمادے کہ ہماری در بینہ تمنائیں برآئیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل سے چند سال کے اندراندرحکومت میں انقلاب آیا اور پہلی دفعہ وہاں جمہوری حکومت قائم ہوئی۔جس نے مذہبی آزادی کا اعلان کر دیا۔ان حالات میں وہاں سپین کی مسجد بنی۔لیکن جو لوگ صدیوں سے مذہبی تعصبات کا شکار ہوں، وہ ایک یا دو دن میں یا ایک یا دو سال میں تو نہیں بدل جایا کرتے۔چنانچہ جب ہم وہاں مسجد کے افتتاح کے لئے گئے تو ہمارے یورپین احمدی بڑے فکر مند تھے، وہ کہتے تھے ، حکومت نے اجازت تو دے دی ہے، افتتاح بھی ہوگا۔لیکن اہل اسپین کو ہم جانتے ہیں۔ہم یورپین ہیں، ہمیں ان کے مزاج کا پتہ ہے۔وہ اسلام کے لئے اپنا دل نہیں کھول سکتے۔یہ ماہر انسانوں کی رائے تھی۔لیکن جب ہم وہاں گئے ہیں تو حیرت انگیز انقلاب دیکھا ہے۔اتنا عظیم الشان استقبال ہوا ہے احمدیت کا کہ آپ کے یعنی ان کے تصور میں بھی نہیں آ سکتا، جو وہاں نہیں گئے۔ہر احمدی جو وہاں جاتا تھا، خواہ وہ امریکہ سے آیا ہو یا انڈونیشیا سے یا جاپان سے یا کسی اور ملک سے، اس کا چہرہ دیکھ کر پہچان لیتے تھے کہ یہ کس لئے آیا ہے۔اور بڑی خوشی سے اس سے ملتے تھے اور کہتے تھے، تم پید رو آباد ماسکی تا (Mazquita) جانے کے لے آئے ہو۔اور اس کے بعد وہ خوشی کا 143