تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 115 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 115

تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد ششم ارشاد است از مجلس عرفان منعقد ہ 15 اکتوبر 1982 ء آخری زمانہ کے بارہ میں پیشگوئیوں کے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے حضور نے فرمایا :۔وہ انقلاب جو ہے، اس کا قرآن کریم میں سورۃ طہ میں ذکر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ يَنْسِفُهَا رَبِّي نَسْفَالُ فَيَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفَان لا تَرَى فِيْهَا عِوَجًا وَلَا امْتَان (آیت 106 109) یعنی یہ بڑی بڑی قو میں جو عظیم الشان پہاڑوں کے برابر غیر معمولی طاقت کی مالک ہیں، یہ ان کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ یہ کس طرح مسلمان ہوں گے؟ ان پر کیا گزرے گی، جو یہ مسلمان ہو جائیں گے؟ فقل ينسفهاربی نسفا، اللہ تعالیٰ ان کو ریزہ ریزہ کر دے گا۔فیذرها قاعا صفصفا، وہ ریت کے ذروں کے میدان بن جائیں گے۔تب يتبعون الداعي لا عوج له ، پھر اس داعی کی پیروی کریں گے، جس میں کوئی کبھی نہیں ہے۔پس بڑی کھلی پیشگوئی موجود ہے۔ریت کے ذروں کی تمثیل موجود ہے کہ خدا پہاڑوں کو ریت کے ذروں کی طرح ہموار کر دے گا، ان کی طاقتیں تو ڑ دے گا۔جب یہ تکبر کی دنیا سے انسانی سطح پر اتر آئیں گے، جب یہ خدا کے حضور عاجز ہو کر جھک جائیں گے، تب یہ اس بات کے لائق ہوں گے کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی علیہ وآلہ وسلم کا دین قبول کریں، جس میں کوئی بھی نہیں۔پس جب تک دنیا میں ہولناک تباہیاں نہ آئیں اور بڑی بڑی قوموں کے غرور نہ ٹوٹیں، اس وقت تک یہ انقلاب رونما نہیں ہوگا“۔( مطبوعه روزنامه الفضل یکم دسمبر 1982ء) 115