تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 1012

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد ششم۔ 1982 تا 1984) — Page 114

ارشادات از مجلس عرفان منعقدہ 15 اکتوبر 1982ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد ششم ایک دوست نے یہ تجویز پیش کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام عرب ملکوں میں بھجوانا چاہیے۔حضور نے اس تجویز کو بہت پسند فرمایا اور ہدایت فرمائی کہ وو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عربی قصیدوں میں یا قلبی اذکر احمد اور ياعين فيض الله والعرفانی کو ایک چھوٹی Cassete C60 میں نہایت مترنم آواز میں ریکارڈ کروا کے تھے بھجوائے جائیں۔مترنم آواز میں مضمون آسانی سے دل میں ڈوبتا ہے۔اب یہ دیکھنا پڑے گا کہ مترنم آواز اور اچھے تلفظ والا آدمی مل جائے۔یعنی عربوں کو جس قسم کی آواز پسند ہے، اس قسم کی آواز میں ریکارڈنگ کروانی چاہیے۔حضور نے مصر کے دو احمدی دوستوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا: وو ان کو لکھا جائے۔یہ دونوں قصیدے نہایت پیاری آواز میں بغیر میوزک کے ریکارڈ کروائیں۔مردانہ آواز میں بھی اور عورت کی آواز میں بھی۔دونوں قسم کی آوازوں کو پسند کرنے والے لوگ ہوتے ہیں۔اس ریکارڈنگ کے عوض پیسے دینے پڑیں، وہ بے شک دیں۔یہ Tapes عمدہ ریکارڈنگ کے بعد ہمیں بھجوائیں، ہم ان کی کا پیاں کروا کر باہر بھیجیں گے۔فارسی کلام میں، میں نے ایران سے ریکارڈنگ کروائی تھی۔بہت اچھی آواز میں تھی۔میں وہ تلاش کرتارہا ہوں، غالباً وقف جدید میں Tapc پڑی ہوگی۔وہ بھی میں نے اس نیت سے تیار کروائی تھی۔پڑھنے والا بہت اچھا تھا۔لیکن ایک بار پھر اس کو Test کروالیں گے۔یعنی جائزہ لے لیں گے، اگر آواز اچھی نہ رہی ہو تو وہ بھی نئے سرے سے تیار کروا لیں گے۔اردو میں نظم پڑھنے والے تو بہت آدمی مل جائیں گئے۔وو کیسٹ ٹپس کے سلسلہ میں ایک دوست کی اس تجویز کو بھی حضور نے پسند فرمایا کہ مجالس ارشاد وغیرہ کی Tapes بھی تیار ہو جائیں تا کہ زیادہ سے زیادہ دوست استفادہ کر سکیں۔اس سلسلہ میں حضور نے فرمایا:۔اصل بات تو یہ ہے کہ ایک مجلس کی بجائے بے شمار مجلسیں پیدا ہو جا ئیں گی۔یورپ نے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔مجھے جرمنی اور ہالینڈ کے احمدی نوجوانوں نے بتایا کہ ہمیں تبلیغ کرنی نہیں آتی تھی۔غیر احمدی دوست اعتراض کرتے رہتے تھے ، ہم ان کو جواب نہیں دے سکتے تھے۔اب ہم ان کو Tape سنا دیتے ہیں تو پھر ان کا رنگ بدل جاتا ہے۔بہر حال ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں تبدیلیاں پیدا کرئے“۔114