تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 943
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطبه جمعہ فرمودہ 19 فروری 1982ء پر حرجانہ دیں گے۔تو بظاہر تو بڑی مشہور ہے، دنیا میں وہ فرم ترجمہ کرنے کے لحاظ سے۔آج میں اس لئے پر بات کر رہا ہوں کہ آپ خاص طور پر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو وعدہ کے مطابق پندرہ مہینے کے اندر اندر یہ تراجم اور تفسیر ( بہت بڑی تفسیر ہے، چودہ سو صفحے میں آتی ہے۔) کرنے کی توفیق بھی دے اور ایسا ترجمہ ہو، جو خدا تعالی کے نزدیک صحیح اور درست اور اثر رکھنے والا ہو۔اور یہ حقیر جماعت دنیا کی نگاہ میں اور کمزور اور کم مایہ جماعت، خدا تعالیٰ کے حضور کچھ تھوڑا سا جو پیش کر رہی ہے، خدا تعالیٰ اسے قبول کرے۔اور افراد جماعت کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے۔اور اسلام کو غالب کرنے کے لئے جو یہ مہم جاری ہے، اس میں برکت ڈالے۔اور ہماری زندگی کی جو سب سے بڑی خوشی ہے کہ ہم اسلام کو غالب ہوتے اپنی آنکھوں سے دیکھیں، وہ خوشی ہماری پوری کرے۔اور ہمیں توفیق دے کہ اسی کے مطابق ہم اور زیادہ اس کے سامنے عاجزانہ جھکنے والے اور اس کے پیار کو حاصل کرنے والے بن جائیں۔میں نے اشارہ کیا کہ ترجمہ صحیح اور غیر صحیح ہونی چاہیے۔اس کا کوئی معیار ہونا چاہیے۔اس سلسلہ میں بہت ساری باتیں ہیں، جو دیکھنی پڑتی ہیں۔چند باتوں کا میں ذکر کروں گا۔ایک تو یہ ہے کہ قرآن کریم عربی زبان میں نازل ہوا، اس لیے کسی ایک لفظ کا بھی ایسا ترجمہ کرنا جائز نہیں ، جس کو عربی جائز نہ کہتی ہو۔یعنی جو تر جمہ یا جو معنی لغت عربی نے کسی عربی لفظ کے بتائے ہیں، اس سے باہر نہ ہو۔ویسے تو چونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کو نازل کرنے والا ہے، اس واسطے وہ اپنی حکمت کا ملہ اور قدرت کاملہ سے عربی الفاظ استعمال کرتا ہے۔مثلاً زکوۃ کے بارہ، چودہ معنی ہیں۔تو بہت سے معانی میں قرآن کریم کی آیات کی تفسیر کی جاسکتی ہے، سیاق و سباق کے لحاظ سے سبھی یہ چھوٹی سی کتاب اتنے عظیم اور وسیع علوم پر حاوی ہوگئی۔دوسرے یہ کہ کوئی ایسا ترجمہ یا تفسیر نہ کی جائے، جو قرآن عظیم کی کسی دوسری آیت یا آیات کے خلاف ہو۔اور اس ترجمے اور تفسیر کی تائید دوسری کوئی آیت نہ کرتی ہو بلکہ اس کے خلاف بات کر رہی ہو“۔۔۔۔اس واسطے محض قرآن کریم کا ترجمہ غیروں میں، غیر مسلموں میں پہنچانا کافی نہیں۔جب تک یہ ساری احتیاطیں نہ برتی جائیں کہ کوئی ایسا ترجمہ یا تفسیر نہ ہو، دوسری آیات نہ کر رہی ہوں ، جس کی توثیق۔بلکہ قرآن کریم خود اپنا مفسر ہے۔قرآن کریم کو نازل کرنے والے اللہ نے یہ اعلان کیا کہ جتنا مرضی غور کر لو اس کائنات میں تمہیں میری صفات کے جلوؤں میں کوئی تضاد نظر نہیں آئے گا۔اس لئے ہم علی الاعلان عیسائی دنیا، جو ا بھی قرآن کریم کو سمجھ نہیں سکی اور دوسرے غیر مسلموں کے سامنے یہ اعلان کیا کرتے ہیں کہ جس طرح قرآن کریم میں یہ اعلان ہوا کہ خدا تعالیٰ کی صفات کے جلووں میں تمہیں کوئی تضاد نہیں نظر آئے گا، اس لئے "" 943