تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 921
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 03 اپریل 1981ء مختلف کھیلوں کے بھی کام آتا ہے، پادری بھی وہاں بولے، بلی گراہم نے بھی غالبا وہاں تقریر کی ، ڈوئی نے بھی کی اور بھی مختلف کام لینے والے اس سے کام لیتے ہیں۔چار ہزار آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے۔انہوں نے سوچ کے اس کو بھی institution بنایا ہے۔یہ جو کرایہ لیں گے، اسی میں اپنے خرچ پر اپنی لائبریری کے لئے (ہمارے لئے نہیں) وہ سارے پروگراموں کی video بنائیں گے یا دوسرے کیمرے بھی بولنے والے آگئے ہیں، وہ تصویر بھی بنائیں گے، سارے دودن کے procedure کی۔اور وہ پھر اس کے جو cassettes ہیں یا فلمیں ہیں، وہ اپنی لائبریری میں رکھ دیں گے۔اگر ہم نے لینی ہوئی ، جس حصے کی یا ساری کانفرنس کی جو بھی لینی ہوئی، جو ان کے ریٹ ہیں، اس کے مطابق بنا کر دے دیں گے۔لیکن وہاں جو بھی فنکشن ہوتا ہے، اس کا سارے کا سارا ریکارڈ ان کی لائبریری میں Cabinct کے طریق پر موجود ہوتا ہے۔تو میرے خیال میں وہ ڈوئی کے زمانہ کی تو نہیں ہوگی۔کیونکہ اس وقت تو یہ چیز آئی نہیں تھی۔نہ وڈیو کیمرہ تھا ، نہ video فلم۔اگر آجاتی تو بڑا مزہ آتا۔ہم بھی اس کو دیکھتے۔لیکن بہرحال یہ تغیر پیدا ہورہا ہے۔دنیا اسلام کی طرف کھینچی چلی آرہی ہے۔دنیا جب میں کہتا ہوں تو اس سے میری مراد انسانی دماغ ہے۔وہ چاہے چین کے رہنا والا ہے یا وہ کمیونسٹ رشیا کا رہنے والا ہے یا وہ گند میں پھنسے ہوئے امریکہ کا رہنے والا ہے یاوہ افریقہ کے جنگلوں میں رہنے والا ہے۔افریقی لوگ اب بھی جانگلی ہیں۔ہمارے ہاں تو ویسے ہی بیچارے جانگلی کہلاتے ہیں، وہ بچ بچ جانگلی ہیں۔ان کا کوئی معاشرہ نہیں، کوئی مذہب نہیں۔اسلام کی طرف ان کا رجحان ہو رہا ہے۔مگر اس اسلام کی طرف جو قرآن عظیم کی صورت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نازل ہوا۔اس اسلام کی طرف نہیں، جو لوگ آپ ہی بنا لیتے ہیں۔اسلام پر ایک یہ بھی ظلم ہے ناں کہ آپ ہی بنالیا۔اور بعض دفعہ تو اتنا بڑا دکھ ہوتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی حصے نے بڑے کھل کے بغیر کسی شرم و حیا کے کچھ قوانین قرآن کریم کے توڑ دیئے۔مجموعی طور پر ساری دنیا میں کوئی ایسا حکم نہیں چھوڑا، قرآن کریم کا، جس کو جرات کے ساتھ تو ڑا نہ گیا ہو۔مثلاً ( میں ملکوں کے نام نہیں لینا چاہتا، میں فساد پیدا نہیں کرنا چاہتا۔) ایک ملک کے مفتی اعظم نے یہ فتویٰ دیا کہ شراب تو عرب ملکوں کے لئے حرام کی گئی تھی کیونکہ وہ گرم ملک ہے۔جو ٹھنڈے ملک ہیں، وہاں تو شراب حرامہ نہیں۔جس طرح اس مفتی اعظم کو گویا پہلی دفعہ پتہ لگا کہ کوئی ٹھنڈے ملک بھی ہیں اور اس کی اطلاع انہوں نے اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کو نہیں دی تھی۔ورنہ وہ اس کا کوئی انتظام کر دیتا۔تو اس قسم کے فتوے بھی ہیں۔پس اس صدی نے یہ بھی ایک کام کیا کہ بدعات کو دور کر دیا اور نوع انسانی کے سامنے خالص اسلام پیش کیا۔اور یہ وہ خالص اسلام ہے، جس کا حسن اور نور قرآن کریم کے اندر موجیں مار رہا ہے۔اور یہ وہ 921