تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 70 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 70

اقتباس از خطبه جمعه فرموده 08 مارچ 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم جماعت ہے اور بے اثر ہے، سیاسی لحاظ سے اور بے ہنر ہے، علم کے لحاظ سے۔لیکن یہ ایک ایسی جماعت ہے، جو ایک طرف اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کے جلال کا عرفان رکھتی ہے، خدا کو سب قدرتوں کا مالک سمجھتی ہے، اس کے بغیر کسی اور چیز پر بھروسہ نہیں رکھتی ، وہ اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ اگر خدا کی عظمت اور جلال کے مقابلے میں ساری دنیا کی طاقتیں بھی اکٹھی ہو کر آجائیں تب بھی وہ کامیاب نہیں ہو سکتیں۔دوسری طرف اللہ تعالیٰ سے اتنا پیار رکھتی ہے اور اپنے پیدا کرنے والے رب کے ساتھ اتنا عشق ہے کہ وہ اپنے نفس کو بھی بھول چکی ہے۔وہ ان عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتی ہے، جن کے اختیار کرنے کی تلقین کی گئی تھی۔وہ کبر و غرور اور تکبر دریا میں ملوث نہیں ہوتی۔اشاعت اسلام کا جو تھوڑا بہت کام کرتی ہے تو اس پر بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہے کہ اس کی توفیق سے یہ صورت پیدا ہوئی، ورنہ اتنا سا کام کرنے کے بھی قابل نہ تھے۔پس اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے جلوے دیکھنے والی یہ جماعت اپنے سروں کو ہمیشہ زمین کی طرف جھکائے رکھتی ہے۔حتی کہ اپنے نفس کو بھی کچھ نہیں سمجھتی۔اور ہر خیر اور بھلائی اور تمام نیکیوں اور کامیابیوں کا سرچشمہ صرف خدائے قادر و توانا کی ذات کو بجھتی ہے اور اسی کی محبت میں غرق رہتی ہے۔اور خدا تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھتی ہے اور ہمیشہ عاجزانہ راہوں کو اختیار کرتی ہے۔اور یہی اس کی اجتماعی سرشت ہے، جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ”میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جماعت احمدیہ کی سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں ہے۔اس لئے کہ ایک طرف ہم خدا کی عظمت اور جلال کو پہچانتے ہیں اور دوسری طرف ہم اس یقین پر قائم ہیں کہ ہمارے نفسوں میں اپنے طور پر کوئی نیکی اور بھلائی یا کوئی طاقت اور قوت نہیں ہے۔بلکہ ہم ہر خیر خدا تعالیٰ ہی سے حاصل کرتے ہیں۔اس لئے ہمارے دلوں میں کوئی فخر نہیں پیدا ہوتا۔ہمارے سر اونچے نہیں ہوتے بلکہ ہمیشہ خدا کے حضور جھکے رہتے ہیں۔ہم بندوں کی خدمت میں مگن ہیں۔وو اسلامی تعلیم پر مسلمانوں نے مجموعی طور پر نشاۃ اولیٰ میں عمل کیا۔پھر بعد میں آنے والے مختلف لوگوں یا گروہوں نے مختلف اوقات میں اور مختلف زمانوں اور مختلف علاقوں میں اس پر عمل کیا اور اب پھر امت محمدیہ میں جماعت احمدیہ کے ذریعہ اس کی بنیا درکھ دی گئی ہے۔اسلام دنیا میں غالب ہوگا اور ایک حسین معاشرہ قائم ہو گا، جس میں ہر انسان کو اس کے حقوق ملیں گے۔کوئی شخص انسانی حقوق کو غصب کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔تاہم اس کے لئے ہمیں عاجزانہ راہوں کے اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔اپنے نفس کو ایک مردہ کیڑے سے بھی بیج سمجھنا لازمی ہے۔70