تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 738
خطاب فرمودہ 07 نومبر 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم وحشی قوموں کو متمدن بنایا جائے گا، چودہویں صدی میں۔وہ وحشی قومیں افریقہ کی ، جن پر اس کا سے قبل ظلم ہو رہا تھا۔امریکن ان کو غلام بنا کے لے گیا۔اور وہ غلام جو ہیں ، آج وہ متمدن ہو کے سب سے زیادہ عزت والے مقام پر نظر آتے ہیں۔واشنگٹن کا میر ہے مثلاً اور وہ آج کل افریقہ سے جو آئے ہوئے تھے ، غلام ان کی نسل سے ہے۔وَإِذَا الْوُحُوشُ حُشِرَتْ (التلومينه 06) وحشیوں کو متمدن بنا دیا جائے گا۔وحشی کو پڑھا لکھا کر مہذب بنادیا گیا۔اگر وہ دوستی رہتے تو ان کو اسلام سکھانا زیادہ مشکل ہوتا۔بجائے اس کے اب وہ متمدن ہیں اور سمجھدار ہیں اور پڑھے لکھے ہیں اور دل رکھتے اور ہمت والے ہیں اور ان کو اسلام سکھانا، اب مشکل نہیں رہا۔اب یہ حال ہے، وہاں کئی ہزار احمدی ہو چکا ہے، چودہویں صدی میں۔اور سینکڑوں عورتیں وہاں کی برقع پہن کے ، نقاب اوڑھ کے سارے کام کر رہی ہیں۔اپنے کام میں حرج نہیں ہونے دیا۔ن کو سمجھایا گیا تھا کہ اسلام تعلیم کام میں حارج نہیں۔برقع نہیں، کام میں حارج۔76ء میں گیا تو ایک بڑی سادہ سی احمدی بہن کہنے لگی کہ میں فلاں تاریخ کو پریذیڈنٹ سے مل کر اس کے ہاتھ میں قرآن کریم کا ترجمہ دے کے آئی ہوں۔اتنا پیار ان کو ہو گیا ہے، قرآن کریم سے کہ جو ایک، دو، تین سال پرانے خاندان ہیں، احمدیت میں، جو پانچ جلدوں کی ہماری تفسیر ہے، انگریزی کی ، وہ ساری کی ساری انہوں نے پڑھی ہوئی ہے۔بعض دفعہ رات کو کوئی آیت سمجھ نہ آئے تو مبلغ کو فون کر دیتے ہیں کہ اس آیت کی یہ تفسیر کی گئی ہے، مجھے سمجھ نہیں آرہی۔سمجھاؤ مجھے۔مبلغ کو بھی ہر چیز ہر وقت یاد تو نہیں رہتی۔اس کو مشکل پڑ جاتی ہے، پھر وہ سمجھاتا ہے۔بعض دفعہ دو، دو گھنٹے بات کرتے رہتے ہیں۔وہاں ٹیلیفون کاسٹم یہ ہے کہ جتنی دیر چاہیں، آپ فون کرتے رہیں، آپ کو کوئی ٹوکنے والا نہیں۔صرف بل وصول کر لیتے ہیں۔وہ کوئی پروا نہیں کرتے ، دو گھنٹے کابل دے دیں گے، دین سیکھتے جائیں گے۔تو وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ (التكوين 11) معمولی اعلان نہیں۔بیسیوں زبر دست پیشگوئیاں ہیں، خدا کے کلام میں، جن کے متعلق مفسر کہتے ہیں کہ یہ ساری باتیں آخری زمانہ سے تعلق رکھتی ہیں۔آج کل کی متمدن دنیا نے جو عجیب و غریب 738