تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 698
ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1980ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک جلد پنجم ہم محبت، پیار اور بے لوث خدمت کے ذریعہ لوگوں کے دل جیتنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اور اس طرح باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے احترام کی فضا پیدا کرنے میں کوشاں ہیں۔اور خدا کے فضل سے ہمیں اس میں نمایاں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔اس ضمن میں حضور نے احمد یہ ہسپتالوں اور سیکنڈری سکولوں کے ذریعہ انجام دی جانے والی خدمت اور اس کے شاندار نتائج کا تفصیل سے ذکر فر مایا۔اس سوال کے جواب میں کہ آپ نے مغربی افریقہ کے ملکوں میں سیکنڈری سکولز تو بڑی تعداد میں کھولے ہیں۔کیا آپ کا ارادہ نائیجیریا میں ایک علیحدہ یونیورسٹی قائم کرنے کا بھی ہے؟ فرمایا:۔”ہمارا احمد یہ یونیورسٹی بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔آپ لوگوں کی اپنی یو نیورسٹیاں بہت اچھی ہیں۔ان کی موجودگی میں علیحدہ یونیورسٹی بنانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہم تو حسب استطاعت زیادہ سے زیادہ سکول کھول کر بالخصوص مسلمانوں میں تعلیم کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینا اور انہیں عیسائیت کے اثر سے بچانا چاہتے ہیں۔کیونکہ وہ تعلیم میں بہت پیچھے ہیں۔ویسے ہمارے سکولوں میں عیسائی بچے بھی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ہم انہیں بھی زیور علم سے آراستہ کرنا ، اپنا فرض سمجھتے ہیں۔24 اکتوبر، کراچی حضور نے فرمایا:۔(مطبوعه روزنامه الفضل 29 جنوری 1981ء) | ” جب میں 1970 ء میں پین گیا تو حالات مختلف تھے۔طلیطلہ میں پرانی چھوٹی سی مسجد تھی۔اس وقت کی حکومت میں سال کے لئے یہ مسجد جماعت احمدیہ کی تولیت میں دینے کے لئے آمادہ ہو گئی۔مگر عیسائی چرچ کے سربراہوں نے اس کی مخالفت کی اور ہمیں مسجد نہ دی گئی۔مگر اب دس سال بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے کہ وہاں جماعت احمدیہ کونئی مسجد کی تعمیر کے لئے نہ صرف جگہ خریدنے کی توفیق مل گئی بلکہ حکومت نے اس جگہ مسجد کی تعمیر کی اجازت اور نقشہ جات کی منظوری بھی دے دی۔یہ جگہ قرطبہ سے قریب ہے۔جب مسجد کا سنگ بنیادرکھنے کی تقریب ہوئی تو احمدی مسلمانوں کے علاوہ سینکڑوں عیسائی مرد وزن بھی وہاں موجود تھے۔یہ مسجد اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ سپین میں مسلمانوں کے صد ہا سال دور حکومت کے اختتام کے بعد یہ پہلا خدائے واحد کے نام پر تعمیر کیا جانے والا گھر ہے، جس کی سعادت جماعت احمدیہ کے حصہ میں آئی۔مسجد کے سنگ بنیادر کھے جانے کی تقریب میں مقامی لوگوں کی 698