تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 686
ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1980ء حضور نے احباب کو اس طرف خاص طور پر توجہ دلائی کہ تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اللہ تعالیٰ کے فضل بارش کی طرح نازل ہو رہے ہیں۔اور افضال خداوندی کے نزول کے ساتھ ساتھ ان کی ذمہ داریوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انہیں چاہئے کہ وہ ان ذمہ داریوں کو ادا کر کے اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ خدا تعالیٰ ان پر ہر آن پہلے سے بڑھ کر اپنے فضل نازل فرماتا چلا جائے“۔( مطبوعه روز نامہ الفضل 28 جولائی 1980ء) 07 جولائی ، فرینکفورٹ ایک صحافی نے یہ سوال کیا کہ آپ کے حالیہ دورہ یورپ کا مقصد کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں حضور نے فرمایا:۔” میرے یہاں آنے کا مقصد لوگوں سے ملنا اور ان تک اسلام کا پیغام پہنچانا ہے۔فی الوقت آپ صاحبان سے ملنے کی بھی غرض یہی ہے کہ میں آپ سے باتیں کروں، اپنے جذبات واحساسات آپ تک پہنچاؤں اور خود آپ کے جذبات و احساسات سے آگاہ ہوں۔اس طرح ہم باہم تبادلہ خیالات کر کے ایک دوسرے کو سمجھنے اور ایک دوسرے کو سمجھانے کی کوشش کریں۔ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ اسلام کو ساری دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اور اس کے لئے کوشش بھی کر رہے ہیں، کیا آپ کے نزدیک طاقت استعمال کئے بغیر اسلام کو ساری دنیا میں پھیلا یا اور غالب کیا جا سکتا ہے؟ حضور نے فرمایا:۔طاقت کے ذریعہ ملکوں کو تو فتح کیا جاسکتا ہے، دلوں کو نہیں۔دل ہمیشہ محبت اور پیار اور بے لوث خدمت کے ذریعہ فتح ہوتے ہیں۔ہم محبت اور پیار اور بے لوث خدمت کے ذریعہ لوگوں کے دلوں کو فتح کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔جہاں تک اسلام کو پھیلانے اور غالب کرنے کا تعلق ہے۔سو اس ضمن میں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب ہم کسی کو کوئی چیز دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اسے باور کرانا پڑتا ہے کہ جو چیز پہلے سے اس کے پاس ہے، اس سے یہ بہتر اور زیادہ کارآمد و مفید ہے۔اس طرح ہم اقوام عالم کے سامنے محبت اور پیار سے اسلام پیش کر رہے ہیں۔اگر ہم انہیں یہ باور کرانے میں کامیاب نہ ہو سکے کہ اسلامی تعلیم اس تعلیم یا نظریہ حیات سے بہتر ہے، جس پر وہ عمل پیرا ہیں تو وہ اسلامی تعلیم کو قبول نہیں کریں گے۔لیکن اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔تو پھر دنیا کی کوئی طاقت انہیں اسلام قبول کرنے سے باز نہ رکھ سکے 686