تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 48 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 48

خطبه جمعه فرموده 08 فروری 1974ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم مطابق قائم کیا ہے۔جس میں نوع انسانی کی دنیوی ضرورتوں کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔جس میں نوع انسانی کی اخروی و روحانی ضرورتوں کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔جس میں اپنے نفس کا خیال رکھنا بھی شامل ہے۔یہ بنیادی طور پر تین شرائط مختلف شکلوں میں ہیں اور قرآن کریم کی تلاوت اور اس پر غور کرنا۔قرآن کریم پڑھتے وقت جو اللہ تعالیٰ کی صفات سامنے آتی ہیں، ان پر غور کرنا۔قرآن کریم پڑھتے وقت انسان کی صلاحیتیں یعنی جن طاقتوں اور صلاحیتوں اور استعدادوں کو لے کر انسان پیدا کیا گیا ہے، وہ سامنے آتی ہیں، ان کی نشو ونما کی ذمہ داری سامنے آتی ہے۔قرآن کریم نے ان تمام صلاحیتوں کی نشونما کے طریق بتائے ہیں۔یہی چیز ہے، جو ہم نے دنیا میں قائم کرنی ہے اور اسی غرض کے لئے اس منصو بہ کو بنایا گیا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا ذ کر کے عنوان کے ماتحت جن دعاؤں کا میں نے ذکر کیا ہے، ان کے علاوہ اپنی زبان میں خدا تعالیٰ کے حضور تضرع کے ساتھ گڑ گڑاؤ اور اس کی مدد حاصل کرنے کی اور اس کی رضا کے حصول کی اور اس سے طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرو۔کیونکہ یہ عظیم منصو بہ یا ایک پاگل سوچ سکتا ہے یا ایک مخلص جانثار، جو اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کو پہچانتا ہو، اس کے دماغ میں آ سکتا ہے۔تو اگر آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت کو پہچانتے نہیں تو پھر آپ پاگل ہیں، جو منصوبہ سوچ رہے ہیں۔اگر آپ اللہ تعالیٰ کی صفات کی معرفت نہیں رکھتے اور اس قادر و توانا خدا کے اوپر آپ کا تو کل نہیں ہے، اگر آپ اپنی زندگیوں میں اس کی متصرفانہ قدرتوں کے جلوے نہیں دیکھتے ، وہ جلوے موجود تو ہیں لیکن اگر آپ ان کا مشاہدہ نہیں کرتے تو پھر یہ منصوبہ جنون کی علامت ہے۔لیکن نہیں جماعت احمد یہ مجنون نہیں۔چاہے دنیا اسے مجنون سمجھے۔صاحب فراست جماعت خدا تعالیٰ نے پیدا کی۔یہ ایک وہ جماعت ہے، جس کے ہاتھ میں اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کا جھنڈا دیا ہے۔اور جس کا ہر قدم دنیا کی ہر جہت میں غلبہ اسلام کی جانب اٹھ رہا ہے۔لیکن پھر میں کہوں گا اور پھر میں کہوں گا اور پھر میں کہوں گا کہ وَلا فَخُر فخر کا کوئی مقام نہیں ہے۔رونے کا اور عاجزی کا مقام ہے کہ کہیں انسان نفس کو دھوکا دے کر کئے کرائے پر پانی نہ پھیر دے۔پس عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ان نفلی عبادتوں کے ساتھ جس کا منصوبہ ابھی میں نے آپ کے سامنے پیش کیا، اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کریں۔اور ان برکتوں اور رحمتوں کے حصول کے بعد خدا تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے اس یقین کے ساتھ کہ اسلام نے بہر حال غالب آنا ہے، غلبہ اسلام کی شاہراہ پر آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی رحمت سے نوازے۔اللہ تعالی ہم 48