تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 574 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 574

اقتباس از خطاب فرموده 02 اپریل 1978ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم وہاں بائیل رکھی ہوئی ہے، کوئی پڑھتا ہے یا نہیں پڑھتا۔بہر حال بائبل پڑی ہوئی ہے۔ان کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کوئی اور چیز ملے پڑھنے کے لئے۔تو انہوں نے دیکھا قرآن کریم کا انگریزی ترجمہ ہے۔وہ کھول کے پڑھا۔اس کے شروع میں دیکھا تو جماعت احمدیہ کے مشن نے اپنی مہر لگائی ہوئی تھی اور پستہ دیا ہوا تھا اور ٹیلیفون نمبر بھی دیا ہوا تھا۔انہوں نے فون کیا۔انہوں نے کہا، میں احمدی ہوں اور یہاں آیا ہوا ہوں۔میرے پاس اتنا بڑا مشن ہے اور میں اتنا مصروف ہوں کہ مشن ہاؤس نہیں آسکتا۔لیکن میری خواہش ہے، میں چاہتا ہوں، آپ مجھے ملیں تو ہمارے مبلغ وہاں کے دو، چار مقامی نائیجیرین احمدیوں کا وفد بنا کر ان سے جا کر ملے۔وہ بڑے پیار اور بشاشت سے ملے۔انہوں نے کہا، میرا تو باپ بھی احمدی ہے۔میرے تو سارے بھائی بہنیں احمدی ہیں۔اور اصل والد ہمارے احمدی ہوئے تھے۔کہتے تھے، ان کو احمدیت سے بڑا عشق تھا۔قرآن کریم کی جو تفسیر احمدیت پیش کرتی ہے، اس کے ذریعہ سے وہ احمدی ہوئے تھے۔اور ہمارے اندرانہوں نے احمدیت کو اس طرح مضبوطی سے گاڑ دیا ہے کہ اب نو جوانی سے اس عمر کو میں پہنچا ہوں اور کوئی ملاپ نہیں رہا جماعت کے ساتھ۔لیکن احمدیت ہمارے دلوں سے نہیں نکل سکتی۔اور پھر خواہش ظاہر کی کہ کبھی موقع ملا پاکستان جانے کا تو مرکز کو بھی دیکھوں گا۔اور وہ بڑے حیران تھے، کہتے تھے، میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ نائیجیریا میں مشن قائم ہو سکتا ہے اور یہاں جماعت قائم ہے۔پھر انہوں نے سارے وہاں کے حالات معلوم کئے۔اور یہ قرآن کریم وہاں رکھے جانے کی برکت تھی۔پس یہاں لائبریریاں جو نہیں ان میں بھی قرآن کریم کے تراجم رکھوائیں گے۔بعض ممالک میں بہت زیادہ لائبریریوں کا رواج ہے اور استعمال کرنے کا بھی۔ہمارے ہاں تو لائبریریوں سے کتاب لے کر واپس نہ کرنے کا رواج ہے۔لیکن ان ممالک میں لائبریری سے کتاب لے کر پڑھنے کا رواج ہے۔پھر کتابیں واپس کر دیتے ہیں۔مثلاً امریکہ ہے، بڑے شہروں میں تو ہر سٹریٹ میں کوئی نہ کوئی چھوٹی سی لائبریری ضرور ہوگی۔پس یہ 53 ہزار کے قریب چھپے پہلے سے اور پھر اس میں جمع ہو گئے ، ایک لاکھ نوے ہزار۔یہ ترقی کی طرف قدم تو ہے۔لیکن یہ دنیا کی ضرورت کے مطابق تو نہیں ناں۔انسانوں سے بھری ہوئی اتنی بڑی دنیا میں ایک لاکھ نوے ہزار تو کوئی چیز نہیں ہے۔صرف امریکہ کے لئے میں نے ان کو یہ منصوبہ دیا ہے کہ اگلے دس سال میں ایک ملین قرآن کریم کے تراجم جو ہیں، وہ تم زیادہ تر لائبریریوں میں اور تعلیمی اداروں میں اور کچھ افراد میں بھی تقسیم کرو۔ایسا منصوبہ بناؤ۔اور میں امید کرتا ہوں اور میری دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں اس کی توفیق عطا کرے۔اور آپ بھی دعا کریں۔574