تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 535
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطاب فرمودہ 21 اکتوبر 1978ء نے کہا، اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اس حالت میں بھی ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔میں کسی انسان کو حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔مجھے ان پر رحم آتا ہے۔میرے دل میں ان کے لئے نفرت پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ رحم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اس رحم کا نتیجہ تھا کہ ہمیں ہیوبش (جرمن نو مسلم احمدی ) مل گیا۔بہت اخلاص ہے اس میں۔”مار جیانا جو ایک خطرناک قسم کی عادت ڈالنے والا نشہ ہے، اس کا وہ عادی تھا۔اسی طرح منہ سے، ناک سے، آنکھوں سے، جسم سے، کپڑوں سے بدبو آتی تھی۔اور ان کا وہ لیڈر تھا، بڑا چوٹی کا لیڈر۔اب بھی وہ لوگ نشے میں بھی ہوں تو اس کی لیڈرشپ کے سامنے جھک جاتے ہیں۔حالانکہ وہ ساری چیزیں چھوڑ چکا ہے۔خدا تعالیٰ نے اس پر فضل کیا ، وہ مسلمان ہو گیا۔اور اب وہ جماعت کے کام بھی کر رہا ہے۔اور ہیوں کو پکڑ پکڑ کر لا رہا ہے، ان کو کہتا ہے کہ دیکھو، میں نے نشہ وغیرہ چھوڑ دیا ہے، تم کیوں نہیں چھوڑ سکتے ؟ اور اس کی زیادہ تر تبلیغ پہیوں میں ہی ہے۔اتنے گند میں پھنسے ہوئے لوگ وہ تو اس معاشرے کا اخلاقی لحاظ سے سب سے نچلا طبقہ ہے۔لیکن ان کو گھسیٹ کر لاتا ہے اور اسلام ان کے اندر ایک انقلابی تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔آج کی دنیا کا فلاسفر اور ماہر اخلاق یہ کہتا ہے کہ بچپن اور جوانی میں پڑی ہوئی عادتیں چھوڑی نہیں جاسکتیں۔لیکن ہم نے درجنوں ایسی مثالیں ان کے ملک میں قائم کر دیں کہ اس قسم کی گندی عادتیں اور اس قسم کا نشہ، جو تم ایک گھنٹے کے لئے بھی نہیں چھوڑ سکتے تھے ، اس کو ساری عمر کے لئے چھوڑ کر صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس، خوشبو دار لباس پہنے ہوئے ، چہرے پر رونق ایمان کی بشاشت اور چمک کے ساتھ انہیں تمہارے سامنے پیش کر دیا۔وہ جو ہیوں کا سردار تھا، وہ تمہارا خادم بن گیا۔وہ مومنوں کا ایک فرد بن گیا۔یہ امتیاز اس شخص میں پیدا ہوا، جوان میں پیدا ہوا، ان کے گندے اخلاق میں گندا بن گیا اور گندگی میں نیچے ہی نیچے چلتا چلا گیا۔لیکن قبل اس کے کہ وہ ہلاک ہو، خدا تعالیٰ نے اس کو پکڑا اور اسلام کا نورا اسے دکھایا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت اور جلال کا جلوہ اس پر ظاہر کیا۔جب اس کو اسلامی تعلیم بتائی گئی تو وہ احمدی مسلمان ہوا اور اس کی کایا پلٹ گئی۔ایک ہی کو وہ پچھلے جلسہ سالانہ پر لاہور میں ملا اور اس کو پکڑ کر یہاں لایا۔اور اس کو ایک، دو دن کے اندر اس نے کہا کہ چھوڑ اس نشے کو، میری طرف دیکھ میں تو تمہارا لیڈر رہا ہوں۔اور اس نے چھوڑ دیا۔میں نے اسے مسجد میں دیکھا۔یہ خدا کی عجیب قدرت ہے کہ جب ایسا آدمی نشہ چھوڑتا ہے تو اس کے کچھ آثار چہرے پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔چنانچہ اس کی آنکھوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔مسجد میں ہم نماز پڑھنے گئے تو وہ پہلی صف میں میرے پیچھے کھڑا تھا۔میری نظر پڑی تو اس کے آنسو ٹپک رہے تھے۔اس وقت مجھے نہیں پتہ تھا، بعد میں، 535