تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 36
خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم مقبول جد و جہد کے نتیجہ میں آسمانوں سے نازل ہوتی ہے اور اللہ تعالی بڑے پیار اور محبت کے ساتھ اپنے بندہ کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیتا ہے۔اس رحمت کا مقابلہ دوسری رحمتوں کے ساتھ جن کے مورد عموماً نباتات اور جانور وغیرہ ہوتے ہیں نہیں ہو سکتا۔گویا اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس دنیا میں ہر وجود، جونظر آتا ہے، کبھی موجود ہوا، اب ہے یا آئندہ ہوگا ، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر نہ تو وجود میں آسکتا تھا، نہ نشو ونما حاصل کر سکتا تھا اور نہ وہ فائدہ مند چیز بن سکتا تھا۔لیکن یہ اور قسم کی مربیانہ رحمتیں ہیں، جو اس کائنات کی ہر چیز میں نظر آتی ہیں۔انسان کے لئے ابدی رحمت مقدر ہے۔اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے انسان کو اس لئے پیدا کیا تھا کہ وہ اس کی عبادت میں ہمہ تن مشغول رہ کر اس کی رحمتوں سے حصہ لے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے ایک لمبے عرصہ تک ایسے سامان پیدا کئے کہ انسان ارتقائی مدارج طے کرتا ہوا اس دور میں داخل ہو، جس میں حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مقدر تھی۔اور جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا مقصد اور مشن پورا ہونا تھا۔اور جس کی انتہا اس بات پر ہونی تھی کہ دنیا کا ہر انسان اپنے خدا کی معرفت حاصل کر چکا ہو اور اس کی رحمت سے، اس کے پیار سے، اس کی رضا سے اس دنیا میں بھی اور اس (آخری) دنیا میں بھی اس کی جنتوں سے حصہ لینے والا ہو۔پس بڑا عظیم کام ہے، جو ہونا ہے۔بڑا عظیم کام ہے، جس کی تکمیل کے لئے اس کی ساری عظمتوں کے باوجود میرے اور تمہارے جیسے کمزور کندھوں کو چنا گیا ہے۔ہمیں اس کے لئے قربانیاں دینی ہیں۔یہ ہمارا کام ہے۔ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ ہم اس وقت خدا کے حضور پیش کرتے ہیں ، وہ فی ذاتہ کوئی چیز نہیں۔کیونکہ اسلام کے مخالفین میں سے ایک ایک آدمی اسلام کے خلاف چلنے والی مہموں کے لئے بسا اوقات پانچ، پانچ کروڑ روپے دے سکتا ہے۔پس سوال پانچ کروڑ روپے کا نہیں یا دس کروڑ روپے کا نہیں۔سوال تو یہ ہے کہ کس اخلاص کے ساتھ ، کس جذبہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے کس پیار کے نتیجہ میں اور وفا کے کس جذبہ کے ساتھ ہم نے اپنی حقیر قربانیاں اس کے حضور پیش کیں، جسے قبول کر کے اس نے اپنی قدرت کی تاروں کو ہلایا۔اور دنیا نے یہ سمجھا کہ جماعت احمدیہ نے یہ قربانیاں دیں اور اسلام غالب آیا۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ جماعت احمدیہ کا وجود اپنی تمام قربانیوں کے باوجود ایک ذرہ نا چیز سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ہاں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے کرشمے اس مادی دنیا میں تدبیروں میں چھپے ہوئے ظاہر ہوتے ہیں۔اس نے ایک تدبیر کی اور اس کی تدبیر ہی ہمیشہ غالب آیا کرتی ہے۔اس کے مقابلے میں جو تدابیر کی جاتی ہیں، وہ غالب نہیں آیا کرتیں۔36