تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 501
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اکتوبر 1978ء آپ بڑے پیار کے ساتھ انہیں تبادلہ خیال کے لئے بلائیں۔اپنے جواب میں بھی میں نے لکھا تھا کہ پیار کے ساتھ اور امن قائم رکھتے ہوئے، اس قسم کے تبادلۂ خیالات ہونے چاہئیں۔چنانچہ کیتھولک بشپس کو بھی دنیا کے مختلف حصوں میں لکھا گیا اور ان کا رد عمل یہ تھا کہ اکثر نے جواب ہی نہیں دیا۔جنہوں نے جواب دیا، ان میں سے ایک جاپان کے کیتھولک بشپ ہیں، ایک برلن کے کیتھولک بشپ ہیں اور بعض اور ہیں، جن کے علاقوں کے نام مجھے یاد نہیں۔انہوں نے صاف طور پر لکھ دیا کہ مسیح کی خدائی ہمارا پختہ عقیدہ ہے، اس لئے اس معاملہ پر ہم آپ سے کسی قسم کی بات کرنے کے لئے تیار ہی نہیں ہیں۔عقل ہمیں یہ کہتی ہے کہ تبادلۂ خیال کرنے کی ضرورت اسی وقت پڑتی ہے، جب دوگروہوں کے پختہ عقائد میں تضاد پایا جائے یا اختلاف پایا جائے۔اگر ساری دنیا ایک عقیدے پر متفق ہو جائے تو تبادلہ خیال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اپنے جواب میں بھی میں نے یہی کہا تھا کہ تمہارا پختہ عقیدہ یہ ہے کہ تین خدا ہیں اور مسیح ان میں سے ایک ہے۔اور ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کی وحدانیت اس عالمین کی بنیاد ہے۔اب یہ دو متضاد عقائد ہیں۔پس ہمارا مذ ہبی اختلاف ہو گیا۔ہمیں پیار کے ساتھ بیٹھ کر ، ایک دوسرے کو دلائل دے کر سمجھانا چاہیے۔لیکن اس کا جواب یہ دیا کہ چونکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے، اس لئے ہم بحث نہیں کرتے۔بہر حال انہوں نے اس طرح چھٹکارا حاصل کر لیا اور میرا یہ خیال نہیں کہ کونسل آف چرچز بھی اس بات پر آمادہ ہو۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ اس وقت کی دنیا میں تھوڑے بہت عقل کے تقاضے بھی مانے جانے لگ گئے ہیں۔یعنی دنیا کہتی ہے کہ ہمیں عقل کے کچھ نہ کچھ تقاضے تو پورے کرنے چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بات کھول کر بیان کی ہے۔وہ یہ کہ بعض باتیں بالائے عقل ہوتی ہیں اور ہم انہیں مانتے ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کی صفات کا اور ان صفات کے جلووں کا احاطہ کر لینا، عقل کی طاقت میں نہیں ہے۔بلکہ یہ بات بالائے عقل ہے۔اور بعض باتیں خلاف عقل ہوتی ہیں۔عقل کہتی ہے کہ ایسا ہوہی نہیں سکتا۔پس یہ دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔مثلاً یہ کہنا کہ یہ تین انگلیاں تین بھی ہیں اور ایک بھی ہے، یہ خلاف عقل ہے، بالائے عقل نہیں ہے۔میں یہ جب کہتا ہوں کہ وہ تبادلہ خیال نہیں کریں گے تو یہ اس لئے کہتا ہوں کہ آج کی دنیا میں عقل نے یہ منوالیا ہے کہ کچھ نہ کچھ تو میری بھی مانو۔اور اگر وہ عقل کی مانیں تو انہیں اپنے عقائد چھوڑنے پڑتے ہیں۔اور ان لوگوں کو اپنی کمزوری کا بے حد احساس پیدا ہو چکا ہے۔اب میں وقت اور مکان ہر دو کے لحاظ سے تھوڑی سی چھلانگ لگا کر آپ کو سٹاک ہالم ( جو سویڈن کا دارالحکومت ہے) لے جاؤں گا۔04 جون کو تبادلۂ خیال والی بات شروع ہوئی تھی اور یہ جولائی کے آخر 501