تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 474
خطبہ جمعہ فرمودہ 09 جون 1978ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم اس لئے ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ مہدی علیہ السلام کے ذریعہ اس زمانہ میں تمام ادیان باطلہ کے خلاف علمی لحاظ سے ایسا مواد جمع کر دیا جائے گا کہ دوسرے مذاہب کے پیر و اسلام کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ان میں عیسائیت بھی ہے، ان میں بدھ مت بھی ہے، پارسیوں کا زرتشتی مذہب بھی ہے اور ہندو مذہب بھی ہے۔آریہ اس کا ایک فرقہ ہے، جو اسلام کی مخالفت میں بڑی تیزی سے ابھرا۔علاوہ ازیں میری فکر کے مطابق لوگوں کے وہ نظریات بھی اس میں آجاتے ہیں، جو مذہب تو نہیں لیکن ازم کہلاتے ہیں۔یعنی وہ خیالات ، جن کے ذریعہ کوئی فلسفہ یا انسانی معاشرہ یا کوئی تمدن قائم ہوتا ہے۔مثلاً اشتراکیت ہے یا سوشلزم ہے۔اور اسی طرح آئے دن دوسرے بہت سے ازم ہیں، جو ابھرتے اور مٹتے چلے آرہے ہیں۔اب یہ کوئی نہیں کہ سکتا کہ اسلام اشتراکیت پر غالب نہیں آئے گا یا سوشلزم پر غالب نہیں آئے گایا دوسرے نظریات پر غالب نہیں آئے گا۔بلکہ ہر وہ مذہب اور نظریہ یا د نیوی فلسفہ جو اسلامی تعلیم کے خلاف ہے، اسلام اس پر بھی غالب آئے گا۔جب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں اور آپ کی تحریرات پڑھتے ہیں یا آپ کے ملفوظات ہمارے زیر مطالعہ آتے ہیں اور ان پر غور کرتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ پہلوں نے جو یہ کہا تھا کہ مہدی کے زمانہ میں اسلام ادیان باطلہ اور ہر قسم کے از مز پر غالب آئے گا، وہ درست کہا تھا۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام تفسیر قرآن اور آسمانی نشانات اور دعاؤں کی قبولیت میں اتناز بر دست مواد ملتا ہے کہ عقل انسانی یہ بات سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ وعدہ کا دن یا مجھے یوں کہنا چاہئے کہ وعدہ کا زمانہ آچکا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے، یہ ایک دن کا کام نہیں۔اس کے لئے مسلسل جدوجہد کی ضرورت ہے۔جہاں تک عیسائیت کا سوال ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دنیائے عیسائیت نے بڑے زبر دست نشان دیکھے۔امریکہ میں ڈاکٹر ڈوئی تھا، اس کے بڑے دعوے تھے، وہ بڑی شان کے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مہدی کے خلاف اٹھا تھا اور بڑی ذلت کے ساتھ اس نے شکست کھائی تھی۔اور اس وقت کے اخبارات اس عظیم نشان سے بھرے پڑے ہیں۔پھر خود ہندوستان میں عیسائیوں کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مناظرہ ہوا۔جس میں دلائل کے ساتھ اور بڑے عظیم علم کلام کے ذریعہ اسلامی تعلیم کی برتری ثابت ہوئی۔یہ آتھم کے ساتھ مناظرہ ہوا تھا، جو جنگ مقدس کے نام سے چھپا 474