تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 463
تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پچیم خطبہ جمعہ فرمودہ 05 مئی 1978ء یہ زمانہ رسول کریم کے عالمگیر نبی ہونے کے وعدوں کے پورا ہونے کا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 05 مئی 1978ء تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔دوست جانتے ہیں، مجھے چونکہ ایک دو دفعہ بڑے زور اور شدت سے ہیٹ سٹروک (Heat stroke) یعنی گرمی لگنے کی تکلیف ہوگئی تھی۔اس لئے اب گرمی مجھے بہت تکلیف دیتی ہے۔کل بہت گرمی پڑ رہی تھی اور ملاقاتیں بھی تھیں اور اس گرمی میں مجھے کچھ وقت ملاقاتیں کرنی پڑیں۔چنانچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے ساری رات دوران سر کی تکلیف رہی۔اس بیماری میں ہر چیز گھومتی معلوم ہوتی ہے۔اس وقت بھی اتنی شدت سے تو نہیں، تاہم ابھی کچھ تکلیف باقی ہے۔لیکن اس جمعہ سے میں غیر حاضر نہیں رہنا چاہتا تھا ، اس لئے یہاں آ گیا ہوں۔مختصراً میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بڑے عظیم الشان اعلان کئے ہیں۔ایک تو یہ فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجود تمام عالمین کے لئے ، تمام کائنات کے لئے رحمت بنایا گیا ہے۔اور دوسرے یہ کہا کہ آپ کی رسالت كافةً للناس کے لئے ہے۔وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا كَافَةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا (29:-) ساری کی ساری نوع انسانی کے لئے آپ رسول، بشیر اور نذیر ہو کر مبعوث ہوئے ہیں۔دو مختلف سورتوں میں یہ آیتیں ہیں۔اور ہر دو جگہ اس اعلان کے بعد کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم عالمین کے لئے ، کائنات کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے ہیں اور یہ کہ آپ کی رسالت کافةً للناس کے لئے ہے۔یہودی اور عیسائی اور بدھ مذہب والے اور ہر قوم اور ہر علاقہ کے لوگ اور ہر زمانہ میں پیدا ہونے والے انسان، غرضیکہ آپ کی بعثت کے بعد سے قیامت تک کی ہر نسل آپ کی رسالت کے ماتحت ہے۔دونوں جگہ اس اعلان کے بعد آگے ایک وعدے کا ذکر ہے۔رحمة للعالمین کے بعد فرمایا کہ میں نہیں کہہ سکتا کہ جو وعدہ تم سے کیا گیا ہے ، وہ کب پورا ہوگا۔463