تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 31 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 31

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک جلد پنجم خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1974ء 16 سال کا انتظار کریں۔جب بھی خدا تعالیٰ نے ہمیں توفیق دی، ہم بہر حال ان کی اشاعت کریں گے۔تا کہ ان ممالک میں جہاں وہ زبان بولی جاتی ہے، وہ علاقے اسلام کی روشنی سے منور ہوں۔یہی ہماری اصل غرض ہے، جس کے لئے جماعت کو مالی قربانیوں میں حصہ لینے کی تحریک کی جاتی ہے۔پس چونکہ بنیا دوں کو تو ہم نے بہر حال مضبوط کرنا ہے، اس لئے ہم نے کام شروع کرنے میں انتظار نہیں کرنا۔اس لئے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی ہے، اپنا سارا وعدہ ادا کرنے کی ، وہ سارا دے دیں۔اور پھر آنے والے سالوں میں تھوڑی بہت جتنی بھی خدا توفیق دے، وہ دیتے چلے جائیں یا 3/16 یا 4/16 دے دیں۔مگر وہ اپنے آپ کو تکلیف میں نہ ڈالیں کیونکہ اس کی بھی ہمیں اجازت نہیں ہے۔بعض دفعہ اس طرح اس قسم کی تنگی پیدا ہو جاتی ہے، جو انسان کے لئے ابتلاء کا موجب بن جاتی ہے۔اس لئے وہ دوست، جن کو اللہ تعالیٰ نے مال دیا ہے یا اچانک ان کی آمد کا کوئی ذریعہ پیدا ہو گیا ہے، وہ آگے بڑھیں اور خود کو تکلیف میں ڈالے بغیر نسبت کے لحاظ سے نہیں بلکہ جو ضرورت ہے، اس عظیم منہ منصوج کی ، اس کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلے سال جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہیں، دے دیں۔غرض اصولاً تو سوائے پہلے سوا سال کے، جس میں ہر ایک کو اپنے وعدہ کا2/16 حصہ ادا کرنا ہے، ہر سال 1/16 کے حساب سے ادائیگی ہونی چاہئے۔بندھی ہوئی آمدنی والے دوستوں کے لئے سہولت اسی بات میں ہے کہ وہ ہر ماہ اس نسبت سے ادا کر دیا کریں۔دیہاتوں میں رہنے والے دوست، جن کی عام طور پر سال میں دو دفعہ برداشت ہوتی ہے اور آمد کا ذریعہ پیدا ہوتا ہے، وہ ان دو موقعوں پر کم از کم 1/16 ہر سال دے دیا کریں۔مگر پہلے سو سال میں 2/16 کے حساب سے ادا کریں۔تیسرے وہ دوست ہیں، جن کی آمد کبھی بڑھ جاتی ہے اور کبھی کم ہو جاتی ہے۔مثلاً وکیل یا تاجر پیشہ لوگ ہیں یا صنعت کار ہیں، جو ملک کی اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اگر اور جب اللہ تعالیٰ ان کے رزق میں فراخی کے غیر معمولی سامان پیدا کردے ( میری دعا ہے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ایسا ہی کرے۔تو وہ نسبت سے ادائیگی کا انتظار نہ کریں بلکہ تنگی میں پڑے بغیر جتنازیادہ سے زیادہ دے سکتے ہوں، دے دیں۔اس طرح ہمارے کام شروع ہی سے تیز سے تیز تر ہوتے چلے جائیں گے اور ہمارا یہ جو منہ ہے، جس کی کامیابیوں کی شکل اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے نتیجہ میں سولہ سال بعد ظاہر ہوتی ہے، اس میں عظمت اورشان پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ہم نے اپنے خون اور پسینے کی کمائی سے، ہم نے اپنے جذبات کی قربانیوں سے ، ہم نے اپنی جانوں کی قربانیوں سے اور ہم نے دنیا والوں سے دکھ اٹھا کر خدا تعالیٰ کے حضور 31