تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 30
خطبہ جمعہ فرموده یکم فروری 1974ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم کسی ماہ اسے کم فیس ملتی ہے۔اسی طرح آزاد انجینئر ہے، وکیل ہے، تاجر ہے اور صنعت کار ہے، ان کی بندھی ہوئی یا مقررہ آمدنی نہیں ہوتی۔بلکہ ان کی آمد میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے۔ان کی آمد ایک خاص حد کے اندر گرتی بڑھتی رہتی ہے۔کبھی کم ہو جاتی ہے اور کبھی زیادہ ہو جاتی ہے۔تاجروں کے لئے مختلف موسم ہیں، جو مختلف وقتوں میں آتے ہیں۔پس میں ان ( تاجروں، ڈاکٹروں، وکیلوں، انجینئروں اور صنعت کاروں ) سے یہ کہوں گا کہ ہم نے چونکہ کام کی ابتدا ابھی سے کرنی ہے اور چونکہ ابتدائی کاموں کے لئے ہم پر بہت سے ابتدائی اخراجات پڑ جائیں گے، اس لئے وہ ہمت کر کے شروع میں اپنے اپنے وعدہ کے سولہویں حصے کی بجائے جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہوں، دے دیں۔یعنی وہ شرح کا خیال نہ رکھیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس کو جتنی توفیق عطا فرمائی ہے، اتنا ادا کر دے۔تاہم میں ان کو یہ نہیں کہوں گا کہ وہ اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ایسا کریں۔لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ تکلیف میں پڑے بغیر وہ پہلے سوا سال میں یعنی 28 فروری 1975ء سے پہلے پہلے اپنے وعدہ کا جتنا زیادہ سے زیادہ دے سکتے ہوں، وہ دے دیں۔تاکہ شروع میں جو ابتدائی کام کرنے ہیں، وہ کئے جاسکیں۔کیونکہ ہم ان کاموں کو 1/16 کی نسبت سے تقسیم نہیں کر سکتے۔مثلاً میں نے کہا تھا کہ کئی جگہ ہمیں نئے مشن کھولنے پڑیں گے، وہاں مسجدیں بنانی پڑیں گی، مشن ہاؤسز بنانے پڑیں گے اور کئی اخراجات ہوں گے، جو ابتدا میں اٹھانے پڑیں گے۔اب مثلاً جہاں مشن ہاؤسز بننے ہیں، وہاں ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ ہم انہیں 16 سال میں مکمل کریں گے اور ہر سال ان پر 1/16 حصہ خرچ کریں گے۔ان پر تو ہمیں جب بھی حالات اور ذرائع میسر آجائیں گے، فوری طور پر خرچ کرنا پڑے گا۔مثلاً زمین مل جائے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے کی اجازت مل جائے تو وہاں فوراً مکان بنانے پڑیں گے۔آج کل غیر ممالک میں خصوصاً ( اور یہاں بھی عمو مالوگ ) جب زمین دیتے ہیں تو شرط لگاتے ہیں کہ اتنے عرصہ کے اندر مثلاً دو سال میں یا تین سال میں جس غرض کے لئے زمین دی گئی ہے، اس کے لئے عمارت مکمل کرو۔غرض ابتدا میں بہر حال نسبت سے زائد خرچ ہوں گے۔اس لئے جماعت میں سے ایک گروہ ایسا نکلنا چاہیے، جو مذکورہ نسبت سے زیادہ ادائیگی کرنے والا ہو۔تا کہ اشاعت اسلام کے کاموں میں کوئی روک پیدا نہ ہو۔مثلاً قرآن کریم کے تراجم کروانے ہیں، ان کو شائع کرنا ہے، قرآن کریم تو برکت سے معمور کتاب ہے، خدا تعالیٰ نے اسے ہماری روح کی تسکین کا ذریعہ بنایا ہے، اس لئے جہاں تک قرآن کریم کے تراجم کا سوال ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ ہم قرآن کریم کے ترجمے شائع تو کر سکتے ہوں مگر پھر بھی 30