تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 454
اقتباس از خطاب فرموده 03 اپریل 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم کی ہے۔ان کو بتائیں کہ یہ حالات ہیں۔یا تم تباہ ہو جاؤ گے یا تمہیں اسلام لا نا پڑے گا۔اگر تباہی سے بچنا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تم تباہ نہ ہو، میں تو ایک آدمی کو، یہ حقیقت ہے، جو جماعت احمدیہ کا نہایت معاند ہے، اس کے متعلق بھی جہاں تک میرے دل کے جذبات کا سوال ہے، میں ایک سیکنڈ کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ اس کو کانٹا بھی چھے اور وہ تکلیف میں ہو۔میں تو یہ چاہتا ہوں، اس لئے خدا نے مجھے اس مقام پر بٹھا دیا اور اس لئے آپ کو، جماعت احمدیہ کو پیدا کیا کہ آپ ایک کانٹے کی تکلیف سے بھی انسان کو بچائیں۔اور وہ جو نہایت خطرناک ہلاکت ان کے لئے مقدر ہو چکی ہے،اس سے بچانے کے لئے بھی کچھ کریں۔خالی ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہنایا جتنی طاقت خدا نے آپ کو دی ہے، اتنی طاقت کا استعمال نہ کرنا، یہ تو کافی نہیں۔اس لئے میں کہتا ہوں کہ آپ القوی الامین بنیں لیکن القوی الامین بننے کے لئے موسیٰ علیہ السلام آپ کے لئے اسوہ نہیں اور نمونہ نہیں۔بلکہ القوی الا مین بننے کے لئے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اسوہ اور نمونہ ہیں۔اللہ تعالی ہمیں صحیح معنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ اور نمونہ کے مطابق زندگیاں ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے“۔رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ یکم تا 103 اپریل 1977ء ) 454