تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 448 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 448

ارشاد فرمودہ 03 اپریل 1977ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اندھا ہے، علام الغیوب تو نہیں ہے، اس واسطے وہ اپنا قانون بناتا ہے۔تو یا استثناء کوئی نہیں رکھتا اور بیوقوفی کرتا ہے۔یا استثناء رکھتا ہے اور اگر دیانتداری سے اس پر عمل کرے تو وہ بے وقوفی نہیں ہوتی۔ایسا بچہ جس کے متعلق کہیں کہ بڑا سمجھدار، بڑا صاحب فراست، بڑا Intelligent ، بڑا مخلص، بڑا ذہین دماغ کا ہے اور اس کے ذہن میں جلا پیدا ہوتی ہے، کسی وجہ سے اس نے میٹرک میں اچھے نمبر نہیں لئے تو پھر میں دیکھوں گا کہ کون سے ٹیسٹ ہیں، جن سے پتہ لگے کہ واقعی اس کی تھرڈ ڈویژن کو ہم نظر انداز کر سکتے ہیں۔لیکن اگر کوئی احمدی باپ آکر یہ کہے کہ میرا دل کرتا ہے کہ میرا بچہ مبلغ بنے نمبر اس نے اتنے ہی لئے ہیں کہ دو کم لیتا تو فیل ہو جاتا۔لیکن آپ اسے جامعہ میں داخل کر لیں۔تو ہم اسے کہیں گے کہ خدا تعالیٰ تمہاری نیت کا تمہیں ثواب پہنچائے ، لیکن جن کو اس نے جا کر پڑھانا ہے، ان کو تو ہم نقصان نہیں پہنچا سکتے۔کہ یونہی ایک نبی نکل کر دنیا کا استاد اور معلم بن جائے۔اور میں نے بتایا ہے کہ کئی ٹوٹتے ہیں۔کوئی اخلاقی لحاظ سے ٹوٹ جاتا ہے، کوئی علمی لحاظ سے ٹوٹ جاتا ہے۔وہ تو ہم اسی واسطے Risk لے رہے ہیں کہ ہمیں آدمی کم ملتے ہیں۔پہلے رعائتیں دے دیتے تھے۔ہمارے عہد یدار بڑے نرم دل ہیں، ایسی نرم دلی کہ ایک فرد واحد کے حق میں تو نرم دل ہیں لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ یہ بات نظام الہی کے خلاف جاتی ہے۔تین تین سال لڑکا نخد بالکل پاس ہی نہیں ہورہا اور کہتے ہیں کہ ایک دفعہ اس کو اور موقع دے دیں، وظیفہ دے دیں اس کو۔یا بعض کو کہہ دیتے ہیں کہ باپ کہتا ہے کہ اب میں اپنے خرچ پر پڑھا دوں گا۔تم اس کی بھی زندگی خراب کر رہے ہو۔اس کو خدا نے شاہد بنے کا دماغ ہی نہیں دیا۔اس کو کہیں کہ جو تمہارا دماغ ہے، اس کے مطابق جا کر کام کرو۔یہ تو صحیح ہے کہ ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے کوئی دماغ دیا ہے۔لیکن یہ درست نہیں، ہر شخص کو خدا تعالیٰ نے جامعہ احمدیہ میں کامیاب مبلغ بننے کے لئے دماغ دیا ہے۔اور جو منتظم ہے، اس کا کام ہے کہ دیکھے کہ اس کا دماغ اس قابل ہے بھی یا نہیں؟ ایک بیچارہ انگریز Second world war (دوسری جنگ عظیم میں لڑتا رہا۔اس کے دماغ پر بڑا اثر تھا۔وہ پھرتا پھراتا یہاں ربوہ آ گیا۔میں کالج میں پرنسپل تھا، وہ میرے پاس آگیا کہ میں یہاں ٹھہر نا چاہتا ہوں۔میں نے کہا، ٹھہر جاؤ۔چھوٹا سا ایک کمرے کا گیسٹ ہاؤس وہاں بھی شروع میں بنا دیا تھا۔میں نے کہا، ٹھہر جاؤ۔کہنے لگا، کتنے پیسے لیں گے؟ میں نے کہا، پیسے! میں نے کہا کہ ہماری تو روایت ہے، مہمان نوازی کی۔تم سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔خیر ان کو تو Paying guest رہنے کی عادت ہے، ان کے ہاں تو بھائی بھی بغیر پیسے لئے بھائی کو مہمان نہیں رکھتا۔اس کو سمجھ ہی نہ آئے۔میں نے کہا، چلو باتیں نہ 448