تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 434
اقتباس از خطاب فرموده یکم اپریل 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم نے ہمارے مبلغ سے سرٹیفکیٹ لیا اور وہ انہوں نے تسلیم کر لیا۔ہمیں یہاں ہمارے ملک سے حج پر جانے سے بعض لوگ روک دیتے ہیں۔( میں جان کر بعض لوگ کہہ رہا ہوں۔) اور وہاں سعودی ایمبیسی نے ہمارے مبلغ کے سرٹیفکیٹ کو تسلیم کر لیا کہ یہ مسلمان ہے اور اس کو ویزہ دے دیا۔وہاں سے ایک دوست آئے ہوئے تھے۔میں نے ان سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ وہ طریق تو اب ختم ہو گیا۔اب جو بھی ویز اما نگے ، خواہ ان کو پتہ ہی ہو کہ وہ احمدی ہے، اب وہ یورپ میں اسے نہیں روکتے۔ایک یہ تبدیلی آگئی ہے۔خدا تعالیٰ نے جو فیصلہ فرمایا ہے، اس کے حق میں تو خدا تعالیٰ نے تبدیلیاں کرنی ہیں۔یہ تو گھبرانے والی بات ہی نہیں ہے۔قرآن کریم نے بار بار اعلان کیا ہے کہ دنیا کی کوئی طاقت میرے مقابلے میں آکر مجھے عاجز اور نا کام نہیں کر سکتی، معجز نہیں بن سکتی۔بار بار فرمایا ہے۔اس واسطے جو خدا کے کام ہیں، وہ تو بہر حال ہوں گے۔لیکن جو ہمارا کام ہے کہ اپنے لئے نیکیاں سمیٹ لیں، وہ ہم نے کرنا ہے۔وہ فرشتوں نے نہیں کرنا۔فرشتوں نے آپ ثواب کما کر آپ کی جھولیاں نہیں بھرنی۔اپنی جھولیاں بھرنے کے لئے خود آپ کو کام کرنا پڑے گا۔باقی جو خدا کا کام ہے، وہ تو ہوگا۔ایک نسل مرجاتی ہے تو دوسری کھڑی ہو جائے گی۔جہاں سے ہمیں پتہ بھی نہیں ہوتا، وہاں سے ہماری ترقی کے سامان پیدا ہو جاتے ہیں۔کئی سال کی بات ہے، نائیجیریا کے شمالی علاقوں میں، جہاں وہ بظاہر جماعت کو گھنے نہیں دیتے تھے، کیونکہ مسلم نارتھ میں بڑا سخت تعصب پایا جاتا تھا۔جب نصرت جہاں سکیم کے ماتحت وہاں سکول کھولے گئے، بعد میں انہوں نے سکولوں کو نیشنلائز کیا تو وہاں جو وز یر صاحب آئے ، انہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں کہ لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ تو جماعت سے بڑا تعلق رکھتا ہے، اس سے ایک آدمی ملنے چلا گیا۔اس نے کہا، میں تو بچپن کے زمانے کا احمدی ہوں۔اور ہنس کر کہنے لگا کہ میرے جیسے اور بھی 6-5 بڑے بڑے افسر یہاں احمدی ہیں۔مگر یہاں کے حالات کے مطابق ہم نے اپنے آپ کو چھپایا ہوا ہے۔اب یہ افریقن تھے۔پس خدا تعالیٰ نے انتظام کیا ہوا ہے۔احمدیت تو پھیل رہی ہے۔کمیونسٹ ممالک میں چلی گئی ، ایسے ممالک میں چلی گئی، جو لاعلمی کی وجہ سے تعصب کرتے ہیں۔ہمیں غصہ کرنے کی ضرورت نہیں ، لا علمی کی وجہ سے یہ تعصب ہے۔اگر علم ہو، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس پیار کا اظہار کیا ہے، محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے۔وہ چودہ سو سال میں کسی اور کے دل میں ہمیں نظر نہیں آتا۔یہاں پاکستان کا ایک بہت بڑا مولوی ہے، وہ ایک دن اپنی مجلس میں بیٹھا ہوا کہنے لگا، لوگ پتہ نہیں کیا با تیں کرتے ہیں؟ اس کا یہ اعتراض تھا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ( اس نے کہا ہوگا کہ مرزا غلام احمد 434