تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 28
خطبه جمعه فرموده یکم فروری 1974ء تحریک جدید - ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم افریقہ کے بعض دوسرے ممالک میں جہاں ہمارے مشن تو نہیں لیکن جماعتیں قائم ہیں۔ان کے نام دفتر نے مجھے نہیں دیئے ، وہ بھی اس میں انشاء اللہ شامل ہو جائیں گے۔پس یہ 51 ملک ہیں۔ان میں بھی کسی میں تھوڑی اور کسی میں بہت زیادہ احمدی جماعتیں قائم ہیں۔انہوں نے ” نصرت جہاں ریزروفنڈ میں حصہ لیا تھا مگر ان کی طرف سے ابھی تک صد سالہ جو بلی فنڈ میں وعدے نہیں پہنچے۔میں نے یہ بھی بتایا ہے کہ پاکستان میں بہت سی جماعتیں ہیں، جن کے ابھی تک وعدے نہیں پہنچے۔اس کے باوجود اس وقت تک اڑھائی کروڑ کی مالی تحریک کے مقابلے میں تین کروڑ تمیں لاکھ سے زائد رقم کے وعدے موصول ہو چکے ہیں۔فالحمد للہ علی ذالک۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں اسلام کی اس نشاۃ ثانیہ کے زمانہ میں ایک ایسی جماعت بنادی ہے، جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہے۔یہی وہ جماعت ہے، جس کے دل میں یہ تڑپ ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو، نوع انسانی کے دل خدا اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جیت لئے جائیں۔اس لئے اگر اللہ تعالیٰ اپنا فضل فرمائے تو یہ بھی کچھ بعید نہیں کہ اشاعت اسلام کے اس عظیم منصوبہ کے لئے سولہ سال میں پانچ کروڑ سے بھی زائد رقم اکٹھی ہو جائے۔جہاں یہ بڑی خوشی کی بات ہے، وہاں ان ممالک کی تعداد پر جب ہم غور کرتے ہیں تو ہمارے لئے فکر کے لمحات بھی پیدا ہوتے ہیں کہ ابھی دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں، جہاں ہماری منتظم جماعتیں اور مشن قائم نہیں ہوئے۔اسی لئے اس منصوبے کے ایک ابتدائی حصے کی رو سے یہ تجویز تھی، کم از کم سو زبانوں میں (یعنی دنیا کے مختلف ملکوں میں بولی جانے والی مختلف سوز بانوں میں ) اسلام کی بنیادی تعلیم کے تراجم کر کے بیرونی ملکوں میں کثرت سے اشاعت کی جائے اور اس ذریعہ سے وہاں کے باشندوں کی تربیت و اصلاح اور ان کو اسلام کی طرف لانے کی کوشش کی جائے۔صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ میں اب تک جو وعدے ہوئے ہیں، ان کے متعلق باہر سے خطوط کے ذریعہ دوست پوچھتے رہتے ہیں کہ ان کی ادائیگی کا کیا طریق اختیار کرنا چاہیے؟ کیا وہ ہر سال کا اپنا سولہواں حصہ دیں یا کوئی اور شکل ہو؟ چنانچہ میں اس بارے میں سوچتارہا ہوں۔اگر چہ قانون تو اندھا کہلاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو تو سو جا کھا اور صاحب بصیرت اور صاحب بصارت بنایا ہے۔میں نے سوچا کہ مختلف شکلوں میں لوگوں کو روپیہ ملتا ہے۔یعنی آمدنی کی شکلیں مختلف ہیں۔انسانوں کا ایک گروہ تو وہ 28