تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 427 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 427

تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خطاب فرموده یکم اپریل 1977ء وہاں پہنچے تھے۔ان کی فضا کے اندر کوئی تبدیلی ہو رہی تھی۔جس کا انسان کو علم نہیں تھا کہ کیا ہے؟ خاموشی کے ساتھ ہو رہی تھی۔نہ ناک اسے سونگھ رہا تھا، نہ کان اسے سن رہے تھے، نہ آنکھیں اسے دیکھ رہی تھیں۔اور پھر یک دم ہی پچھلے چند سالوں کے اندران میں ایک نمایاں تبدیلی پیدا ہو کر سامنے آگئی۔میں پچھلے سال وہاں گیا ہوں۔میں نے انہیں کہا کہ اگر آپ نے اپنے بچوں کی صحیح تربیت کرنی ہے تو کمیونٹی سنٹر بناؤ۔جہاں علاقے کے احمدی گھرانوں کے بچے اپنی چھٹیوں میں اکٹھے ہوں۔اور ماحول ایسا ہو، جو بچے کے ذہن کے مطابق ہو۔مثلاً میں نے انہیں کہا کہ وہاں پھل دار درخت لگاؤ اور بچے کو اجازت ہو کہ جب مرضی درختوں سے پھل توڑے۔کوئی اس کا نگران نہیں ہونا چاہئے۔وہ بچوں کا باغ ہے۔اور وہ کھائیں۔صرف ان کو یہ سمجھانے والی بات ہے کہ کچے نہ کھانا، پیٹ میں درد ہو جائے گا یا بعض پھلوں میں شروع میں بہت کھٹاس ہوتی ہے، تمہارے گلے میں خراش پیدا ہو جائے گی۔لیکن یہ انہیں سمجھانے والی بات ہے۔البتہ یہ نہ کھاؤ، ہاتھ نہ لگاؤ ، تو رونہ، یہ نصیحت کسی اور غرض کے لئے ہے۔اور بہت سی چیزیں ان کو بتا ئیں۔یہ سات سال کا پروگرام تھا اور 15 جگہ دس سے تمھیں ایکڑ تک زمین لینے کا پروگرام تھا۔اور ابھی ایک سال پورا نہیں ہوا کہ 4 جگہ جماعت کو زمین مل چکی ہے۔اسی طرح سالہا سال سے کینیڈا کہہ رہا تھا کہ ٹورنٹو میں مسجد ہونی چاہیے، مسجد ہونی چاہئے۔ٹورنٹو میں ہمارا مرکز ہے۔سارے کینیڈا کے امیر ٹورنٹو میں ہیں۔لیکن یہ اس ملک کا دارالخلافہ نہیں ہے۔وہاں بڑی اچھی جماعت ہے۔اور وہ اس کی طرف توجہ ہی نہیں کر رہے تھے۔اب میں نے دورہ کیا تو چند مہینوں کے اندراندرانہوں نے شہر سے باہر، لیکن زیادہ دور نہیں، چند میل کے اندر اندر مسجد اور مشن ہاؤس اور کمیونٹی سنٹر کے لئے ساڑھے چھا یکٹر زمین لے لی۔قریباً 50 یا 60 ہزار کینیڈین ڈالر میں۔امریکہ اور کینیڈا میں یہ فرق ہے کہ کینیڈا میں ہمارے ان علاقوں کے لوگ یعنی ہندوستان کے اور عرب ممالک کے احمدی اور کچھ پاکستان کے وہاں جا کر آباد ہوئے ہیں اور اکثریت ان کی ہے۔کینیڈ نیز احمدی بھی ہیں۔لیکن اکثریت یہاں سے گئے ہوئے لوگوں کی ہے۔لیکن امریکہ میں بہت بھاری اکثریت امریکنز کی ہے۔بالکل اصلی شہری، جو خاندان کہ صدیوں سے وہاں رہتے ہیں۔ویسے امریکہ اور کینیڈا میں باہر سے ہی سارے لوگ گئے ہوئے ہیں۔ریڈ انڈینز کو تو انہوں نے چل کر رکھ دیا تھا۔اب ان میں کچھ جان پڑی ہے۔بہر حال بڑا فرق پڑ رہا ہے۔جہاں تک افریقہ کا تعلق ہے، اس میں لوگ اب سکولوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں کہ ہمیں اور سکول بنا کر دو۔ہم گورنمنٹ کی پالیسی کے ساتھ چلتے ہیں۔گورنمنٹ کے افسر آتے ہیں اور بڑی تعریف 427