تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 378
خطبہ جمعہ فرمودہ 28 اکتوبر 1977ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ان ہوئی چیزیں ان کے لئے ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہیں۔وہ دعا کے لئے لکھتے ہیں۔خدائے قادر وتوانا اپنی قدرت کا مجزانه نشان انکو دکھا کر مر کز سلسلہ کے ساتھ ان کے تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔ابھی چند ہفتے ہوئے ، مجھے ایک دوست کا خط آیا۔مجھے تو یاد نہیں تھا کیونکہ اس قسم کے خط تو آتے ہی رہتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بڑے نشان دکھانے والا ہے، وہ بغیر حساب کے دیتا ہے۔اس کے فضلوں کا حساب کون کر سکتا ہے؟ غرض اس دوست نے لکھا کہ ایک سال ہوا، میں نے آپ کو یہ لکھا تھا کہ میرے ہاں اولاد نہیں۔اور سب ڈاکٹر یہ کہتے ہیں کہ تمہاری اس بیوی سے بچہ ہو ہی نہیں سکتا۔بڑے علاج کروائے لیکن کوئی علاج کارگر نہیں ہوا۔اب ڈاکٹروں نے جواب دے دیا ہے کہ اس بیوی سے بچہ نہیں ہو سکتا۔اور اب میں آپ کو یہ خوشخبری سنارہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بچہ دے دیا ہے۔پس یہ خدا تعالیٰ کی قدرت کا نشان ہے۔اس میں نہ میری کوئی بزرگی ہے اور نہ جماعت کی۔یہ تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ ہمارے حق میں اپنی قدرت کا نشان دکھاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے اسلام کو ساری دنیا میں غالب کرنے کا جومنصوبہ بنایا ہے، یہ دراصل اسی منصوبے کی کڑیاں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے دلوں میں بھی ایمان کو مضبوط کرتا ہے۔اور ان کے اندر ایثار اور قربانی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کے نشان دیکھ کر اس کی وحدانیت کے قائل ہو جاتے ہیں، ان کے دل کی وحشت دور ہو جاتی ہے، اسلام کے حسن و احسان کے گرویدہ ہو کر حسن معاملہ میں بہت ترقی کر جاتے ہیں۔پس تحریک جدید ایک الہی تحریک ہے۔جس کے بڑے خوشکن نتائج سامنے آرہے ہیں۔اس کے اجراء کے وقت شاید ایک لاکھ روپے کی مالی قربانی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔اور یہ اس وقت کی بہت بڑی قربانی تھی۔لیکن اب خدا تعالیٰ کے فضل دیکھو کہ نصرت جہاں کے ماتحت ہمارے جو ڈاکٹر مغربی افریقہ میں گئے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ میں اتنی برکت ڈالی کہ اڑھائی کروڑ سے بھی زیادہ آمد ہوئی۔جو انہی لوگوں پر خرچ ہوگئی۔کیونکہ وہاں جو آمد پیدا ہوتی ہے، اس کا ایک دھیلا بھی باہر نہیں نکالا جاتا، نہ اور کوئی خرچ کرتا ہے۔وہ ان عوام پر خرچ ہو جاتی ہے، جن کی خدمت کی غرض سے ہمارے ڈاکٹر گئے ہوئے ہیں۔غرض یہی تحریک جدید، جس کا آغاز ایک لاکھ کی مالی قربانی سے ہوا تھا، اس کے ذریعہ بیرونی ممالک میں تبلیغ اسلام کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسے ایسے لوگ حلقہ بگوش اسلام ہو چکے ہیں، جو بڑی بڑی قربانیاں دے رہے ہیں۔وہ مبلغین کے پیچھے پڑ جاتے ہیں کہ انہیں کتابیں مہیا کریں۔378