تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 332 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 332

ارشادات فرموده دوران دورہ مغرب 1976ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے، جو جسمانی، ذہنی، اخلاقی اور روحانی صلاحیتوں کی کامل نشو ونما کے ذریعہ انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کر دکھاتا ہے۔اسی لئے دنیا کی نجات اسلام کے ساتھ وابستہ ہے۔اس کے بعد حضور نے متعد دسوالوں کے جواب دیئے۔جو زیادہ تر اس امر سے تعلق رکھتے تھے کہ اسلامی انقلاب، جس کے ساتھ دنیا کی نجات وابستہ ہے، کس طرح رونما ہو گا ؟ حضور نے فرمایا:۔اس انقلاب کے رونما ہونے میں طاقت کے استعمال کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔یہ سراسر پرامن ذرائع سے رونما ہو گا۔پر امن ذرائع سے مراد محبت پیار اور بے لوث خدمت ہے۔یہی وہ ذرائع ہیں، جن سے دلوں کو بدلنا ممکن ہے۔دل طاقت سے نہیں بلکہ ان ذرائع سے ہی بدلے جاتے ہیں۔اب بھی انہی ذرائع سے دل بدلے جائیں گے اور بنی نوع انسان اسلام کی آغوش میں آکر خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کریں گئے۔اس سوال کے جواب میں کہ اگر پر امن اور آئینی ذرائع سے مطلوبہ تبدیلی رونمانہ ہو تو کیا پھر بھی طاقت اور تشدد کا استعمال ممنوع ہی رہے گا ؟ حضور نے فرمایا:۔ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہی ہے کہ ہم محبت، پیار اور بے لوث خدمت کے ذریعہ لوگوں کے دل بدلنے کی کوشش کرتے چلے جائیں۔خواہ دل بدلنے میں کتنا ہی عرصہ کیوں نہ لگ جائے۔دل ہمیشہ رفتہ رفتہ ہی اثر قبول کرتے ہیں۔آخر ایک وقت ایسا آجاتا ہے کہ لوگ قبول حق پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے طاقت استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔پھر خدا تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ وہ یہ انقلاب خود بر پا کرے گا۔وہ ہمہ قدرت اور ہمہ طاقت خدا ہے۔وہ ایسے حالات پیدا کرے گا کہ دل اثر قبول کرنے لگیں گے اور لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہوتے چلے جائیں گئے۔05 اگست، نیویارک مطبوعه روزنامه الفضل 15 ستمبر 1976ء) ”مذہب کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ یہ کہ انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم ہو جائے۔جب کسی انسان کا خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم ہو جاتا ہے تو پھر خدا تعالیٰ ہر آڑے وقت میں اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اسے اپنی تائید و نصرت سے نوازتا ہے۔وہ پھر عقل کے رحم وکرم پر نہیں ہوتا بلکہ ہمہ قدرت وہمہ 332