تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 324 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 324

خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اکتوبر 1976ء تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جلد پنجم جدید کی ابتداء ہوئی۔پھر اپنی ابتداء سے ترقی کرتے ہوئے اس نے بڑھنا شروع کیا اور پھیلنا شروع کیا۔دنیا اس بات کو نہیں سمجھتی بلکہ اعتراض کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صرف اس منصوبہ کے نتیجہ میں ہی لاکھوں عیسائیوں اور مشرکین کو حلقہ بگوش اسلام کرنے کی توفیق دی۔لاکھوں! ایک یا دو نہیں، سینکڑوں نہیں ، ہزاروں نہیں بلکہ صرف افریقہ میں ہی لاکھوں عیسائی اور مشرک مسلمان ہوئے اور اب بھی ڈاک میں خط آجاتے ہیں کہ میں عیسائی تھا اور چند مہینے ہوئے میں مسلمان ہوا ہوں۔دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اسلام پر قائم رکھے اور اسلامی تعلیم پر عمل کرنے کی توفیق عطا کرے۔لیکن دنیا لاکھوں افراد پر تو مشتمل نہیں۔وہ تو کروڑ ہا افراد پر ، کئی ارب افراد پر مشتمل ہے۔اور ان سب کو اسلام کی طرف لانا اور پیشگوئیوں کے مطابق بڑے تھوڑے سے وقت میں لانا، بنی نوع انسان کو جن کی اتنی بڑی تعداد ہے اور ان کے پھیلاؤ میں اتنی وسعت ہے کہ وہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، ان کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا، یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔لیکن یہ ہو گا ضرور اور ہو گا اس تھوڑے سے وقت میں۔انسانی زندگی میں صدی، سواصدی کا زمانہ لمبا عرصہ نہیں ہے۔جیسا کہ قرائن ہمیں بتاتے ہیں کہ ہماری زندگی کی پہلی صدی ، جس کے ختم ہونے میں قریباً چودہ سال رہ گئے ہیں۔اس کے بعد وہ صدی ہمارے سامنے آئے گی، جس کے استقبال کی ہم تیاری کر رہے ہیں۔اور میں اپنی سمجھ کے مطابق یقین رکھتا ہوں کہ وہ غلبہ اسلام کی صدی ہے۔اور پھر ہماری زندگی کی تیسری صدی وہ ہوگی، جس میں ہمیں ان انسانوں کی طرف توجہ کرنی پڑے گی کہ جو بچے کچے کونوں کھدروں میں پڑے ہوں گے اور ابھی تک اسلام نہیں لائے ہوں گے۔لیکن انسانوں کی اکثریت اسلام لے آئے گی، اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے اور اس کی بشارتوں کے مطابق لیکن اس سلسلہ میں ہم نے بھی کچھ کرنا ہے۔کیونکہ یہ ذمہ داری ہمارے کندھوں پر ہے۔اور خدا کا فضل ہے کہ جماعت اپنی قربانیوں میں دن بدن ترقی کر رہی ہے۔ہمارے پاس صرف وہ مبلغ اور مبشر نہیں ہیں، جو جامعہ احمدیہ میں پڑھتے ہیں۔ان میں سے کچھ ٹوٹ جاتے ہیں اور کچھ کو اللہ تعالیٰ استقامت کی توفیق عطا کرتا ہے اور وہ باہر نکل کر بڑی قربانی دے کر خدا تعالیٰ کے نام کو بلند کرنے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔صرف و ہی نہیں بلکہ بہت سی جگہوں پر ہمارے بعض ادارے کھل گئے ہیں۔مثلا مغربی افریقہ میں سالٹ پانڈ ایک جگہ ہے، وہاں پر ان ممالک کے رہنے والے بچوں کو لمبا عرصہ پڑھا کر بطور مبلغ اور مبشر کے تیار کیا جاتا 324