تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 301
تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جولائی 1976ء قربانی کا۔سوگو یا انسان خدا کی خاطر تھوڑی سی تکلیف اٹھاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے لئے بے انداز راحت کے سامان کر دیتا ہے۔اسی لئے 1974ء میں جب احباب جماعت نامساعد حالات میں سے گزر رہے تھے، میں ان سے کہتا تھا، تمہارے یہ دکھ عارضی ہیں، لیکن تمہاری خوشیاں دائی ہیں۔ان دکھوں کے عوض خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے ہمیشہ ہمیش قائم رہنے والی خوشیاں مقدر کر رکھی ہیں۔دراصل دنیا یہ بھول جاتی ہے کہ اصل رزق تو خدا تعالیٰ کے پاس ہے، وہ جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے، اپنے بندہ کو دیتا ہے۔اور جس ذریعہ سے چاہتا ہے، دیتا ہے۔کوئی اس کی عطا کے راستہ میں روک نہیں بن سکتا۔اسی طرح خوشی و راحت اور سکون واطمینان اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہی ملتا ہے۔اور کہیں سے نہیں مل سکتا۔اس لئے سب کچھ ہر طرف سے منقطع ہو کر اسی سے مانگنا چاہئے۔اور اسی کے در سے لینا چاہیے، نہ کہ کسی اور در سے۔وہ الحی ہے۔جب وہ اپنی اس صفت کا اظہار کرتا ہے تو مردہ قو میں زندہ ہو جاتی ہیں۔اور جن کو وہ تباہ کرنا چاہتا ہے، وہ اپنی قیومیت کا سہاراذ راسی دیر کے لئے ہٹا لیتا ہے اور وہ فنا ہو جاتے ہیں۔پس انسان کو اپنا مقام بھی پہچاننا چاہیے اور خدا تعالیٰ کی عظمت و جلالت شان اور کبریائی کی بھی معرفت حاصل کرنی چاہیے۔اس میں اس کی تمام تر فلاح کا راز مضمر ہے۔آخر میں حضور نے سویڈن کے شہر گوٹن برگ میں تعمیر کی جانے والی مسجد کا پھر ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ہمیں یہ امر بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ہر مسجد اللہ کی مسجد نہیں ہوتی۔مسجد کی حرمت اینٹ گارا اور لکڑی سے وابستہ نہیں ہے۔ان چیزوں کو تو اللہ نے انسان کا خادم بنایا ہے۔مسجد کی حرمت کا مدار اسے آباد کرنے والوں پر ہوتا ہے۔اور ان لوگوں کے تقویٰ پر ہوتا ہے، جنہیں خدا تعالیٰ ان کا کسٹوڈین اور نگران بناتا ہے۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر قائم ہوں اور قائم رہیں۔تاکہ ہم خدا تعالیٰ کی نگاہ میں مساجد کی حرمت کو قائم کرنے والے قرار پاسکیں۔66 حضور نے فرمایا:۔سویڈن کے بعد اب ناروے میں مسجد تعمیر ہونی ہے، اس کے لئے بھی انشاء اللہ العزیز بیرونی جماعتیں رقم فراہم کر دیں گی۔جماعت احمدیہ کے قیام کی پہلی صدی مکمل ہونے میں اب صرف تیرہ، چودہ سال کا زمانہ رہ گیا ہے۔یہ زمانہ بہت ہی اہم ہے، ذمہ داریوں کے لحاظ سے بھی اور بہت ہی اہم ہے، ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے نتیجہ میں ملنے والے انعامات کے لحاظ سے بھی۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی اہم ذمہ داریوں کو سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔( مطبوعه روزنامه الفضل 19 اگست 1976 ء ) 301