تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 276 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 276

ارشادات فرمودہ 30 مارچ 1975ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم سے احمدی ہوں۔اور میرے جیسے چار، پانچ اور احمدی بھی ہیں، جو بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔لیکن ہم نے اپنی احمدیت کو چھپایا ہوا ہے۔تو خسر ہماری مخالفت کر رہا تھا لیکن اس کا داماد اندر سے احمدی تھا اور احمد یوں کی مدد بھی کر رہا تھا۔اب خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں مسجدیں بن گئی ہیں۔جہاں احمدیوں کو گھنے نہیں دیتے تھے، وہاں نئی جماعتیں قائم ہورہی ہیں۔پس ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ ہماری حیثیت بین الاقوامی ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں کہ غلبہ اسلام کے لئے خدا تعالیٰ نے مہدی معہود کو معبوث فرمایا ہے تو غلبہ اسلام سے ہماری مراد صرف پاکستان میں اسلامی شریعت کی حکمرانی نہیں۔بلکہ اس سے مراد یورپ میں بھی اور امریکہ میں بھی، شمالی امریکہ میں بھی اور جنوبی امریکہ میں بھی، جزائر میں بھی، چین اور جاپان میں بھی اور روس میں بھی شریعت اسلامیہ کی حکمرانی مراد ہے۔حضرت مہدی علیہ السلام کو یہ بشارتیں دی گئی ہیں۔یہ خالی ہماری خوش فہمی نہیں ہے۔جب ہم یہ کہتے ہیں، اللہ تعالیٰ جماعت احمدیہ کو اپنا آلہ کار بنا کر، اس ذرہ نا چیز کو، جو جماعت احمدیہ کہلاتی ہے، روس جیسی عظیم دہر یہ حکومت میں، جوصرف اسلام کی ہی مخالف نہیں بلکہ مذہب کی بھی مخالف ہے، جس میں بہت بڑی آبادی اور وسیع ملک ہے، اس میں اسلام کو غالب کرے گا۔تو یہ ہماری خوش فہمی نہیں۔بلکہ جس پاک وجود یعنی محمدصلی اللہ علیہ وسلم کہ جس محبوب فرزند کو خدا تعالیٰ نے اس زمانہ میں معبوث کیا، اس کو خدا تعالیٰ نے کشف کے رنگ میں دکھایا کہ روس میں ریت کے ذروں کی طرح احمد ی ہی احمدی ہو جائیں گے۔اس وقت تو وہاں ریت کا ایک ذرہ بھی مسلمان نہیں۔اور جو مسلمانوں کے علاقے تھے، وہاں مسلمانوں کی نسلوں کو بڑے آرام سے اور بڑی سہولت اور بڑی ہوشیاری سے دہر یہ بنا دیا گیا ہے۔لیکن ہمارے خدا نے یہ فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجنے والے نے ہمیں یہ کہا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ان ممالک میں لہرائے گا۔اور روس کی آبادیاں اس جھنڈے تلے آکر فخر محسوس کریں گی۔اور اس سایہ میں فرحت اور ٹھنڈک محسوس کریں گی۔پس اصل بات جو میں کہنا چاہتا ہوں، وہ ہمارے مبلغ کے لئے نصیحت ہے۔جب ہماری جماعت کا یہ مقام ہے کہ گویا ساری دنیا سے ہمارا تعلق ہے تو جو مثلاً غانا کا مبلغ ہے، اگر غانا کا ایک شاہد (جامعہ کا پڑھا ہوا) انگلستان میں رہتے ہوئے یا اپنے ملک میں رہتے ہوئے، پاکستانی مبلغ انچارچ کی انتہائی اخلاص کے ساتھ اطاعت کرنے والا ہے تو اگر اس کو انچارج بنا دیا جائے تو ہمارے ہر مبلغ کو نہایت اخلاص کے ساتھ اس کی اطاعت کرنی پڑے گی۔ورنہ تمہارا دعوئی کچھ اور ہوگا اور تمہارا عمل کچھ اور ہوگا۔میں جب 70ء میں غانا گیا تو وہاں کے چند آدمیوں کے متعلق مجھے یہ بتایا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ پاکستانی مبلغ ہمارے سروں پر سوار ہونے کے لئے آجاتے ہیں۔A Ghanian for Ghana کے طور 276