تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 263

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم اقتباس از خلاصه خطاب فرمودہ 27 دسمبر 1975ء روپے تین سال کے اندر اندر اس فنڈ میں ادا کر دکھائے۔اس طرح نصرت جہاں ریز روفنڈ کا کل سرمایہ 53 لاکھ 53 ہزار بنا۔مجھے یہ مشورہ دیا گیا کہ جس طرح فضل عمر فاؤنڈیشن والے کمپنیوں کے حصص خرید کر حاصل ہونے والے منافع سے کام کر رہے ہیں، اسی طرح میں بھی نصرت جہاں ریز روفنڈ کارو پی نفع مند کاموں میں لگا کر اس کے منافع سے افریقہ میں سکول اور ہسپتال کھولوں اور اس کام کو کمپنیوں میں لگائے ہوئے سرمایہ کے منافع کی حد تک محدود رکھوں۔میں نے مشورہ دینے والوں کو کہا، کمپنیاں تو ایک حد تک ہی منافع دے سکتی ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ چند سال بعد وہ منافع دینا بند کر دیں اور کہیں کمپنیاں نقصان میں جا رہی ہیں۔میں تو جس سے تجارت کرتا ہوں، وہ دو، چار یا آٹھ ، دس گنا ہی نفع نہیں دیتا، وہ تو بغیر حساب دیتا ہے۔میں تو اس سے تجارت کروں گا، جو بڑا دیا لو ہے۔اور جب دینے پر آتا ہے تو دیتا ہی چلا جاتا ہے۔میں نے دفتر والوں سے کہا، افریقہ میں سکولز اور ہیلتھ سنٹر کھولنے پر براہ راست سرمایہ میں سے روپیہ لگاتے چلے جاؤ۔چنانچہ روپیہ خرچ ہوتا رہا۔وہی لوگ ، جنہوں نے مجھے نفع مند کاموں پر روپیہ لگانے کا مشورہ دیا تھا ، بہت گھبرائے۔اور انہوں نے کہا کہ اگر کل سرمایہ خرچ ہو گیا تو پھر کیا بنے گا؟ میں نے کہا، گھبرانے کی ضرورت نہیں۔میں نے اپنے خدا پر بھروسہ کر کے اس سے تجارت کی ہے۔وہ نہ صرف نقصان سے ہمیں بچائے گا بلکہ بے انداز منافع سے بھی ہمیں نوازے گا۔اللہ اکبر، جس سے میں نے تجارت کی تھی ، اس نے ہمارے اعتماد کو ایسے رنگ میں پورا کیا کہ دل اس کی حمد اور شکر کے جذبات سے لبریز ہو گیا۔نصرت جہاں ریز روفنڈ میں کل وصولی ہسپتالوں کی خالص بچت کو شامل کر کے اتنی زیادہ ہوئی کہ دنیا کی کوئی تجارت بھی اتنا نفع نہیں دے سکتی تھی۔ہم نے مغربی افریقہ کے ملکوں میں جو ہسپتال کھولے، انہوں نے وہاں کئی لاکھ مریضوں کا مفت علاج کیا تشخیص بھی مفت کی اور دوائیں بھی انہیں مفت مہیا کیں۔ادھر بعض بڑے بڑے ذی ثروت اور مالدار لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے یہ اثر ڈالا کہ اللہ تعالیٰ نے احمدی ڈاکٹروں کے علاج میں شفار کھی ہے، وہاں جاؤ اور ان سے علاج کراؤ۔وہ لوگ پہلے یورپ جا کر علاج کراتے تھے۔انہوں نے ہمارے ہسپتالوں میں علاج کرایا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے شفا عطا کی۔انہوں نے مفت علاج نہیں کرایا بلکہ علاج کے جملہ اخراجات اور فیسیں وغیرہ ادا کیں اور دل کھول کر ادا کیں۔اس طرح فضل عمر ریز روفنڈ میں چندوں کی رقوم اور ہسپتالوں کی خالص بچت ملا کر کل وصولی ایک کروڑ 87 لاکھ روپے ہوئی۔اس میں سے ہسپتالوں اور سکولوں کی عمارتوں، فرنیچر اور اپریٹس، جراحی کے آلات اور آپریشن تھیٹر وغیرہ اور عملہ کی 263