تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 10

خطبہ جمعہ فرموده 09 نومبر 1973ء تحریک جدید- ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم ہے، یورپ کے بعض اور علاقے ہوں ، جہاں ہمیں مشن کھولنا پڑیں۔اور جب وہ مشن کھلیں گے تو وہاں ان کے لئے لٹریچر ان زبانوں میں مہیا کرنا اور دوسرے ایسے اخراجات جو یہاں ہو سکتے ہیں، ان کا انتظام کرنا ، یہاں کی جماعتوں کا کام ہوگا۔ایک اور بات جو میں کہنا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جماعت کے وہ نوجوان ، جن کو اللہ تعالیٰ نے زبان سیکھنے کا ملکہ عطا کیا ہو، وہ صرف اس حد تک اپنے آپ کو وقف کریں کہ مجھے اطلاع دیں کہ ہمیں اللہ تعالیٰ نے زبان سیکھنے کا ملکہ عطا کیا ہے اور ہم غیر زبان بڑی سہولت اور آسانی سے سیکھ سکتے ہیں۔پھر ان میں سے انتخاب کر کے اور اللہ تعالیٰ جنہیں تو فیق عطا کرے، ان کو ٹرینینگ دلوا کر بہت سے ایسے نوجوان تیار کرنا پڑیں گے، جو دوسری زبانیں جانتے ہوں۔خود اپنے ملک میں بھی ایسی سندھی جانے والے جو دقیق مذہبی اصطلاحات کا ترجمہ کر سکتے ہوں، ان کی ہمیں ضرورت ہے۔ایسے پشتو بولنے والے، جو دقیق مذہبی اصطلاحات کا پشتو میں ترجمہ کر سکیں ، ان کی ضرورت ہے۔فارسی جاننے والوں کی ضرورت ہے اور عربی کے لئے تو بہت کچھ سہولتیں ہمارے پاس ہیں۔اتنی سہولت فارسی زبان کی نہیں۔حالانکہ ہمارے لئے اول نمبر پر عربی زبان ہے، دوسرے نمبر پر اردو ہے اور تیسرے نمبر پر فارسی زبان ہے۔فارسی بڑی اہم ہے۔جماعت کے لئے اہم ترین تین زبانوں میں سے فارسی اس لئے بھی ہے کہ مہدی معہود، جن کے آنے کی پیشگوئی تھی اور جو آ چکے، ان کو فارس انسل کہا گیا تھا۔اور دوسرے دنیا میں جو مسلمان خطے کثرت سے پھیلے ہوئے ہیں۔ان میں بہت بڑا علاقہ فارسی بولنے والوں کا ہے، جو روس کے اندر تک گیا ہوا ہے۔اور دنیا میں تبلیغ کے لئے جو زبانیں ہمیں چاہئیں، ان میں سے پہلے محض انگریزی ہمارا کام کر دیتی تھی۔اس لئے کہ دولت مشترکہ ساری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور انگریزی بولنے والے ملک ملک میں تھے۔یہاں تک کہ یورپ کے وہ ممالک، جو دولت مشترکہ کا حصہ نہیں تھے بلکہ انگریزوں سے برسر پیکار رہتے تھے، وہ بھی اپنے بچوں کو انگریزی ضرور سکھاتے تھے۔مثلاً جرمنی، اس کی دو مرتبہ انگریزوں سے لڑائی ہوئی لیکن دوسری جنگ سے معا پہلے جب میں آکسفورڈ میں پڑھا کرتا تھا تو چھٹیوں میں ادھر ادھر پھرا کرتا تھا، مجھے کر یدکر پوچھنے کی عادت ہے۔اس دوران مجھے معلوم ہوا کہ جرمن سکولوں میں انگریزی ضرور پڑھائی جاتی ہے۔وہاں دو قسم کے سکول ہیں، ایک سائنس کے اور ایک آرٹس کے۔آرٹس کے سکولوں میں دوزبا نہیں جرمن زبان کے علاوہ ضرور پڑھائی جاتی ہیں۔ان میں سے ایک انگریزی ہے، یعنی عام طور پر ان کا اتنی فیصد طالب علم انگریزی جانتا تھا۔لیکن اب وہ حالت نہیں رہی۔اب تو اتنا فرق پڑ گیا ہے کہ میں نے خود محسوس کیا ہے کہ جرمن ملک میں 10