تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 240 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 240

خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔جلد پنجم بیچارے کے سکول میں کوئی آتا نہیں تھا۔چنانچہ اس حالت میں کہ علاقے کو اس کی طرف کوئی توجہ نہیں تھی۔وہ صرف اس جذبے کے ماتحت، جو بڑا پیارا جذبہ ہے کہ اسے کوئی مسلمان لے لے، جماعت احمدیہ کے پاس آئے کہ جماعت احمد یہ اس ملک کے مسلمانوں کی نمائندہ ہے، یہ لے لے۔ورنہ عیسائیوں کواور تقویت پہنچے گی۔انہوں نے یہاں حالات لکھے، میں نے کہا، اچھالے لو، اللہ فضل کرے۔چنانچہ وہ لے لیا۔یہ اسی سال کا واقعہ ہے۔صرف چند مہینے ہوئے ہیں۔جس سکول میں پچاس سے زیادہ بھی بچے داخل نہیں ہوئے تھے، دو ہفتے ہوئے ہیں، مجھے رپورٹ آئی ہے کہ جماعت کے پاس آنے کے بعد اس سکول میں 150 بچے پہلی کلاس میں داخل ہو چکے ہیں۔اور انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ ماں باپ نے اپنے بچوں کو اس بہت بڑے کیتھولک سکول سے ہٹا کر ، ان کے نام وہاں سے کٹوا کر اس سکول میں انہیں داخل کیا ہے۔تو وہاں اس قسم کے حالات پیدا ہورہے ہیں۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ ان واقعات کو دیکھ کر موجودہ حالات میں وہاں بھی کسی ملک میں ایک پریس لگایا جا سکتا ہے۔کل کا تو مجھے پتہ نہیں، میرا رب جانتا ہے۔اسی واسطے میں بار بار کہتا ہوں کہ دعاؤں کے بغیر ہمارا کام نہیں چل سکتا۔وہ ہستی، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ، نہ ماضی کی ، نہ حال کی ، نہ مستقبل کی۔جب تک اس کی راہنمائی نہ ہو، کیسے ہم ترقی کر سکتے ہیں؟ کیسے ہم اس کی خوشنودی حاصل کر سکتے ہیں؟ کیسے ہماری کوشش اور کام اور تدبیر میں برکت پڑسکتی ہے؟ پس وہ بڑی اچھی جگہ ہے۔ممکن ہے کہ ایک پر لیس وہاں کھولیں۔یہاں کا پر لیس بھی بعض روکوں کی وجہ سے دو سال لیٹ ہو گیا ہے۔اب کچھ آثار ہیں کہ شاید پانچ ، چھ مہینے میں تھوڑا بہت کام کرنا شروع کر دے۔جس وقت میں نے اعلان کیا تھا کہ دو پریس باہر بنیں گے، اس وقت مجھے تو پتہ نہیں تھا کہ یہاں کے حالات کیا ہو جائیں گے؟ اور ہمارے راستے میں کیا روکیں پیدا ہوں گی؟ لیکن میرے اور تمہارے رب کو پتہ تھا اور اس نے میری زبان سے ایسی بات نکلوادی کہ خود میں نے بعد میں سوچا تو میں نے کہا کہ اس کی ضرورت تو بظا ہر نہیں تھی۔ٹھیک ہے، زبان سے بات نکال دی گئی ہے، اس میں خدا تعالیٰ کی کوئی حکمت ہوگی۔تو پریس کے اوپر خرچ آئے گا۔پاکستانی روپیہ کے لحاظ سے تو پریس کے اوپر کافی خرچ ہو جاتا ہے۔اگر ایک درمیانے درجے کا پریس انگلستان میں لگے تو اس کے اوپر وہاں کا لاکھ، سوالاکھ روپیہ، جس کو وہ پاؤنڈ کہتے ہیں، وہ خرچ ہو جاتا ہے۔( میں جب دورے پر وہاں جاتا ہوں تو پاؤنڈ کو میں روپیہ ہی کہا کرتا ہوں۔) بڑا مہنگاملک ہے۔اس کی قوت خرید بھی بہت کم ہے۔یعنی آپ یوں سمجھ لیں کہ وہاں پر بعض جگہ ایک عام 240