تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 239
تحریک جدید- ایک الہی تحریک۔۔۔جد پنجم خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء دعائیں کیں۔اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے۔وہ منصوبہ ، جس کے متعلق ہمارے اندازے تھے کہ وہ سات سال میں مکمل ہوگا ، خدا تعالیٰ کے فضل سے ڈیڑھ دو سال میں وہ کمل ہو گیا اور اس کا بڑا اثر ہوا۔ایک امریکن مجھے نانا میں ملے ، وہ وہاں کے قبائلی کسٹمز (Customs) ، ان کی روایات اور رہن سہن کے طریقوں پر پی ایچ ڈی (P۔HD) کے لئے اپنا مقالہ لکھ رہے تھے۔وہ ڈیڑھ سال کے بعد یہاں آئے۔سیر کرتے ہوئے پھر رہے تھے ، یہاں بھی آگئے۔وہ کہنے لگے کہ میں صرف یہ دیکھنے کے لئے آیا ہوں کہ یہ جماعت کس چیز سے بنی ہوئی ہے؟ مجھ سے تو بات نہیں کی لیکن بعض دوستوں سے انہوں نے یہ کہا کہ اگر امریکہ یہ وعدہ کرتا تو ڈیڑھ، دوسال میں وہ اپنا یہ وعدہ پورا نہ کرسکتا۔لیکن جماعت احمدیہ نے اسے پورا کر دیا۔بات یہ ہے کہ ہم اس مٹی سے بنے ہوئے ہیں، جو دنیا کی نگاہ میں حقیر ہے لیکن خدا کے ہاتھ میں اس کا آلہ کار بن چکی ہے۔خدا فضل کرتا ہے اور کامیابیاں عطا کرتا ہے۔ورنہ ہم کیا اور ہماری بساط کیا اور ہمارے مال کیا اور ہماری عقلیں اور فراست کیا۔نتیجے اور تدبیر اور کوشش کا آپس میں کوئی مقابلہ نہیں ہے۔بڑا عظیم نتیجہ نکل رہا ہے۔جماعت کے منتظمین چونکہ موقع کے اوپر ہیں، وہ پیچھے پڑ جاتے ہیں تو مبلغ ہاں کر جاتے ہیں، نیم رضامند ہو جاتے ہیں کہ ہاں ہم کھول دیں گے۔بعد میں مجھ سے منظوری لیتے ہیں، پھر مجھے منظوری دینی پڑتی ہے۔ایک سکول کا تو یہ ہوا کہ ایک مسلمان نے اپنے علاقے میں ایک سکول کھولا ، جس کو وہ چلا نہیں سکا۔وہ مسلمانوں کا علاقہ ہے، وہاں احمدی بھی ہیں لیکن اکثریت ان مسلمانوں کی ہے، جو احمدی مسلمان نہیں۔تو وہ حکومت اس کے پیچھے پڑ گئی کہ تم سکول نہیں چلا سکتے تو ہم تم سے واپس لے لیں گے۔اس نے کہا کہ میری تو عزت خاک میں مل جائے گی۔وہ بہت بڑا آدمی تھا۔انہوں نے اسے کہا کہ پھر تم یہ کرو کہ سکول کسی مشن کو دے دو کہ وہ سنبھال لے۔عیسائی اس کے پاس گئے کہ یہ سکول ہمیں دے دو۔خدا نے ان کو بڑی دولت دی ہے۔لیکن ایسی مثالوں سے دنیا کی دولت اور خدا تعالیٰ کی تدبیر اور منشاء کا مقابلہ نمایاں ہوکر، کھلے طور پر سامنے آ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم تمہیں تو نہیں دیتے۔وہ ہمارے پاس آئے اور کہا کہ اگر عیسائیوں کو دے دیا تو پہلے ہی ان کے بہت سکول ہیں ہمارے علاقے میں، وہ ہمارے بچوں کو خراب کر رہے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اسے جماعت احمدیہ لے لے۔اور اس سکول کی یہ حالت تھی کہ لڑ کے داخل ہونے کے لئے نہیں آتے تھے۔چند میل پر ایک کیتھولک سکول تھا ، انہوں نے سکول کی بہت بڑی اور شاندار عمارت بنائی ہوئی تھی اور غیر ملکی سٹاف رکھا ہوا ہے، وہاں کثرت سے بیچے جاتے تھے اور اس کے 239