تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 236
خطبہ جمعہ فرمودہ 21 نومبر 1975ء تحریک جدید - ایک الہبی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم صرف اس منصوبہ کے سلسلہ میں بلکہ اور دوسرے منصوبوں میں بھی) اس کے مطابق اپنے وعدوں سے زیادہ وہ ادائیگی کرسکیں۔لیکن بہر حال وہ ادائیگیاں تو اپنے وقت پر ہوں گی۔پھر ایک دوسرا گروہ ہے، جنہوں نے آئندہ بڑھنے والی آمد کی توقع پر زیادہ وعدے کئے ہیں۔وہ حصہ جو تو قع کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس کے لئے انہوں نے اللہ پر بھروسہ رکھا ہے۔اور خدا تعالیٰ ان کے اس اعتماد کو ضائع نہیں کرے گا اور ان کی دولت اور ان کے اموال میں برکت ڈالے گا، انشاء اللہ۔لیکن جو وہ اس وقت کما رہے ہیں، اس کے لحاظ سے وعدے کا پندرھواں حصہ پہلے سال میں اور پندرھواں حصہ دوسرے سال میں یعنی دو سالوں کا ملا کر 2/15 تو انہوں نے بہر حال پہلے دو سال میں ادا کرنا ہے۔اس منصوبہ کی تیاری عملاً ساتھ ساتھ شروع ہوگئی ہے۔جیسا کہ آپ نے دیکھا ہے کہ میں ایک مسجد کی بنیا درکھ کر آیا ہوں۔جس کا صد سالہ احمد یہ جوبلی منصوبہ سے تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ نے بنیاد کے ساتھ ہی وہاں جماعت کی مضبوطی کے سامان بھی پیدا کر دیئے ہیں۔ابھی کل ہی مجھے وہاں سے ایک اور خط ملا ہے کہ کچھ اور یوگوسلا واحمدی ہو گئے ہیں۔ان کے اندر ایک رو پیدا ہوگئی ہے۔اور مسجد میں اور مشن ہاؤسز یہ ہمارے مراکز ، ہمارے کیا، یہ خدا کے گھر ، خدا کے نام کو بلند کرنے کے مراکز بنتے ہیں۔جس ملک میں اس قسم کا کوئی بھی مرکز نہ ہو، اس ملک میں خدا تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنے کی ہماری کوئی کوشش کامیاب ہو ہی نہیں سکتی۔سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ غلبہ اسلام کے لئے استثنائی حالات پیدا کرے۔وہ تو اس کا فضل اور اس کی رحمت ہے اور اس کی عطا ہے۔ہم عاجز بندے تو اپنی کوتاہ فراست اور عقل سے ہی اندازے لگاتے ہیں۔لیکن وہ ، جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں اور جو سب اموال اور دولتوں کا مالک ہے، وہ دیتا بھی ہے اور وہ سامان بھی پیدا کرتا ہے۔وہ تو اس کا حصہ ہے اور وہ دے گا۔لیکن ہمیں اس نے کہا ہے کہ تم اپنی بساط کے مطابق تدبیر کرو۔اور ہم اپنی بساط کے مطابق اور اپنی سمجھ کے مطابق تدبیر کرتے ہیں۔ہماری ناقص عقل یہ کہتی ہے کہ مثلاً یورپ کے جن ممالک میں ہم نے اسلام کی تبلیغ کرنی ہے اور اسلام کی پیاری اور حسین اور احسان کرنے والی تعلیم ان تک پہنچانی ہے اور اس کے ذریعہ سے ان کے دلوں کو خدا اور اس کے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے جیتنا ہے، یہ کام تب ہو سکتا ہے، جب وہاں ہمارا کوئی مرکز بھی ہو، کوئی کام کرنے کی جگہ ہو۔اور لوگوں کو پتہ ہو۔اور اگر اور جب دلچسپی پیدا ہو تو وہ اس جگہ پر جا کر اپنی سیری کا انتظام کر سکتے ہوں۔اور اپنی لگن کو دور کرنے کے لئے ان کو وہاں سے کوئی لٹریچر مل سکتا ہو۔اس عرصے میں ہم نے بہت سائٹر پچر کتب اور رسائل مختلف زبانوں میں شائع کرنے ہیں۔اب وہاں میں نے ایک مسجد کی بنیا درکھی ہے۔اور کتب و رسائل کی بیبیوں ضروریات وہاں محسوس ہونے لگی 236