تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 209 of 1040

تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 209

تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔جلد پنجم خلاصہ خطبہ جمعہ فرمودہ 03 اکتوبر 1975ء محبت اور ہمدردی سے احمدیت نے نوع انسان کے دل جیتنے ہیں خطبہ جمعہ فرمودہ 03 اکتوبر 1975ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔” جب سے اس دنیا میں انبیاء علیہم السلام کی بعثت شروع ہوئی، دو قسم کے انبیاء آتے رہے ہیں۔ایک وہ، جو صاحب شریعت اور صاحب حکم ہوا کرتے تھے۔اور ایک وہ ، جو کسی شریعت کے تابع ہو کر آتے تھے۔اور جو بدعات پہلے سے نازل شدہ دین میں پھیلی ہوئی ہوتی تھیں ، انہیں دور کر کے دین کو اس کی اصلی اور خالص شکل میں از سر نو پیش کرتے تھے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں انبیاء بنی اسرائیل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيهَا هُدًى وَنُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوالِلَّذِيْنَ هَادُوا (المائدة: 45) اس آیت سے ظاہر ہے کہ تو رات بطور شریعت کے نازل تو موسیٰ علیہ السلام پر ہوئی تھی لیکن بعد میں ایسے انبیاء آئے ، جو خود بھی اس شریعت پر عمل کرتے رہے اور دوسروں سے بھی اس پر عمل کراتے رہے۔يحكم بها النبیون کا یہی مطلب ہے"۔66 حضور نے دونوں قسم کے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:۔" یہ فرق تو انبیاء علیہ السلام کے درمیان اصولی طور پر پایا جاتا ہے۔لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ ہیں سب ایک جیسے۔مثال کے طور پر اصولی اختلاف کے باوجود دونوں میں پائی جانے والی یکسانیت اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ دونوں قسم کے انبیاء کی مخالفت ہوئی اور اس قدر شدید مخالفت ہوئی کہ اپنے مشن میں ان کی کامیابی ناممکن نظر آنے لگی۔انبیاء بنی اسرائیل میں سے آخری نبی شریعت موسوی پر عمل کرانے والے حضرت عیسی علیہ السلام تھے۔ان کی انتہائی شدید مخالفت ہوئی اور انہیں شدید قسم کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔حتی کہ ان کے بعض ماننے والوں کو عرصہ دراز تک غاروں میں زندگی بسر کرنا پڑی۔یوں معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے مقصد میں نا کام ہو جائیں گے۔لیکن خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں کامیاب کیا۔سب سے آخر میں صاحب شریعت نبی، خاتم النبيين ، حضرت محمد رسول الله 209