تحریک جدید ۔ ایک الٰہی تحریک (جلد پنجم ۔ 1974ء تا 1982ء) — Page 201
تحریک جدید- ایک البی تحریک۔۔۔۔جلد پنجم خلاصه خطبه جمعه فرموده 29 اگست 1975ء اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے کہ وہ احمدی بچوں کو بڑے اچھے ذہن عطا کر رہا ہے خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اگست 1975ء تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔آج میں دو باتوں کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک بات تو احمدی طلباء اور طالبات سے متعلق ہے۔اور دوسری بات کا تعلق صد سالہ احمد یہ جو بلی فنڈ کی اس ذمہ داری سے ہے، جو انگلستان کی جماعت نے از خود قبول کی ہے۔اللہ تعالیٰ اپنی وراء الوراء حکمتوں کے ماتحت قوموں اور افراد کو بے انداز افضال سے نوازتا ہے۔اس کے یہ افضال مختلف شکلوں میں نازل ہوتے ہیں اور ان کی مختلف علامتیں ہوتی ہیں۔کسی قوم کے حق میں اس کی سب سے بڑی عطا نوجوان نسل کے ذہن ہوتے ہیں۔اگر دیکھا جائے تو مادی دولت کا انحصار بھی بنیادی طور پر ذہن پر ہوتا ہے اور روحانی رفعتوں کا تعلق بھی بڑی حد تک ذہن رسا سے ہی ہوتا ہے۔اس تمہید کے بعد ایک بات تو میں احمدی بچوں سے کہنا چاہتا ہوں اور دوسرے اس تعلق میں جو ذمہ داری نظام جماعت پر عائد ہوتی ہے، اس کی طرف جماعت کو توجہ دلانا چاہتا ہوں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جس بچہ کواللہ تعالیٰ ذہن رسا عطا کرتا ہے، اس کی ذہنی نشو وارتقاء کی ذمہ داری خود اس بچہ پر بھی عائد ہوتی ہے اور نظام جماعت پر بھی۔بہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ ذہین پیدا کرتا ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ وہ غفلتوں، بد عادتوں یا بد محبتوں کے نتیجہ میں اپنی پہنی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔اس طرح وہ ان ترقیات سے محروم رہ جاتے ہیں، جو انہیں یقینا مل سکتی تھیں۔بلکہ وہ جماعت اور قوم کو بھی اس فائدہ سے محروم کر دیتے ہیں، جو ان کی خداداد ذہنی صلاحیتوں کی صحیح نشو و نما کی صورت میں اسے پہنچ سکتا تھا۔اس لیے ہر احمدی بچے کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی ذہنی استعداد کی پوری مستعدی کے ساتھ نشو ونما کرتا رہے۔اگر کوئی بچہ ایسا ہے، جو اپنی ذہنی استعداد کی نشو ونما نہیں کرتا تو وہ اپنے نفس کا بھی گناہگار ہے اور جماعت کا بھی مجرم ہے۔201